شیموگہ :۔ملک بھر میں کورونا سے لڑنے کیلئے اس وقت بڑے پیمانے پر ویکسی نیشن مہم چلائی جارہی ہے،لیکن وہیں دوسری جانب نقلی ویکسین کرنے والے گروہ سرگرم ہوچکے ہیں ۔ بنگال،اترپردیش،مہاراشٹرمیں جابجا نقلی ویکسین لگائی جارہی ہے،جس کی اطلاع بڑی دیر بعد محکمہ صحت عامہ اور پولیس تک پہنچ رہی ہے۔اب تک بھارت میں50کے قریب افراد کونقلی ویکسین لگانے اور پہنچانے کیلئے کیمپ منعقد کرنے کے الزام میں گرفتارکیاگیاہے۔سوال یہ ہے کہ جب بھارت میں ایک طرف لاپرواہیوں سے کورونا سے جیسی مہلک بیماری کو بڑھاوادیاجارہاہے تو دوسری جانب نقلی ویکسین کا کاروبار کیسے بڑھ رہاہے؟۔صرف مہاراشٹرمیں ابتدائی ایک ہفتے میں ہی جعلسازوں نے28 ہزار ڈالرکی نقلی ویکسین فروخت کی ہے۔یہ تو خیرکی بات ہے کہ2500 لوگ مہاراشٹرمیں اس ویکسین کو لے چکے ہیں، جبکہ ویسٹ بنگال میں بھی5 ہزارکے قریب لوگوں نے نقلی ویکسین لی ہے جن میں سے کئی افراد کی طبیعت بگڑگئی ہے۔بھارت میں ایک طرف اصلی ویکسین لینے کیلئے لوگ ڈر رہے ہیں تو دوسری طرف ایسی نقلی ویکسین سے لوگوں میں دہشت کا ماحول پیداہورہاہے۔اگر وقت رہتے حالات کو بہتر بنانے کیلئے حکومت کی جانب سے اقدامات اٹھائے نہیں جاتے ہیں تویقیناً لوگوں کو آرینج جوس،انانس جوس اور نمک کا پانی ویکسین بنا کر دیاجائیگا۔
