چنئی: مرکزی انٹیلی جنس ایجنسیایک نئی تشکیل شدہ ‘اسلامی تنظیماسلامک فیڈریشن آف تمل ناڈو پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس تنظیم کا قیام یکم اکتوبر کو عمل میں آیا تھا۔ایسا کہا جا رہے کہ اس تنظیم میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا، پاپولر فرنٹ آف انڈیا ، اسلامک لاء ریسرچ کونسل اور چند دیگر ہم خیال تنظیموں کے نمائندے شامل ہیں۔ اس تنظیم کے عبوری کوآرڈینیٹر ایم رحمت اللہ ہیں۔یہ تنظیم جو ایک این جی او کے طور پر رجسٹرڈ ہے اس کے پانچ مقاصد ہیں جن میں سب کو تعلیم کی سہولیات فراہم کرنا، وقف بورڈ کی ملکیت اور غیر قانونی طور پر قابض جائیدادوں کی بازیابی، شادی میں مسائل کا سامنا کرنے والے مسلمانوں کے لیے ثالثی مراکز، بینک کا قیام شامل ہیں۔ یہ بغیر سود کے قرض دیتی ہے۔خیال رہے کہ رحمت اللہ نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا(PFI) کے ساتھ کسی بھی تعلق سے صاف انکار کیا ہے اور یہ کہ خفیہ ایجنسیاں تنظیم کے واٹس ایپ گروپ کا حصہ ہیں۔ ایجنسیوں کے ذرائع نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ انہوں نے نئی تنظیم پر نظر رکھی ہوئی ہے۔کوئمبٹور اسلامی دہشت گردی کی تحریکوں کا مرکز رہا ہے ۔ یہآں 14 فروری 1998 کو سلسلہ وار بم دھماکوں میں 58 افراد مارے گئے تھے۔ سلسلہ وار بم دھماکے کا مقصد ملک کے اس وقت کے نائب وزیر اعظم ایل کے ایڈوانی کو نشانہ بنانا تھا۔اس بم دھماکہ کے بعد عبدالناصر مدنی اور ایس اے باشا سمیت متعدد رہنماؤں کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔مرکزی ایجنسیوں کے ذرائع نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ اگر نئی تنظیم کاپی ایف آئی یا دیگر ممنوعہ تنظیموں سے کوئی تعلق نہیں ہے، تب بھی یہ تنظیم یقینی طور پر مرکزی ایجنسیوں کی نظر میں ہوگی۔ اس سے قبل یہ اطلاعات تھیں کہ مسلم مفادات کے ساتھ اور این جی اوز اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی آڑ میں بہت سی تنظیمیں ابھریں گی۔
