ممبئی:۔گذشتہ 27 سالوں سے جیل میں بند عمر قید کی سزا کاٹ رہے ایک 94 سالہ ضعیف العمرشخص کو آج سپریم کورٹ آف انڈیا نے عبوری راحت دیتے ہوئے تین ماہ کی پیرول میں توسیع کردی ، عدالت نے عرض گذار ڈاکٹر حبیب احمد خان کی پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے انہیں تین ماہ کی عبوری راحت دی جس کی وجہ سے اب انہیں جئے پور جیل نہیں جانا پڑیگاورنہ دودن بعد انہیںجئے پور جیل میں خود سپردگی کرنی پڑتی۔یہ لگاتار تیسرا موقع ہے جب سپریم کورٹ نے ڈاکٹر حبیب کی پیرول میں توسیع کی ہے۔ڈاکٹر حبیب کی مستقل پیرول پر رہائی کی عرضداشت پر سپریم کورٹ آف انڈیا میں داخل کی گئی تھی جس پر آج دو رکنی بینچ کے جسٹس ونیت شرن اور جسٹس دنیش مہشوری کے روبرو سماعت عمل میں آئی جس کے دوران عدالت نے کہا کہ وہ مستقل پیرول پر رہائی کا حکم دے نہیں سکتے لیکن ضعیف العمری وبیماری اور کرونا وباء کی وجہ سے ان کی پیرول میں تین ماہ کی توسیع کررہے ہیں اور تین ماہ مکمل ہوجانے کے بعد اس پر غور کریں گے۔سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ دوے ،ایڈوکیٹ آن ریکارڈ گورو اگروال اور ایڈوکیٹ مجاہد احمد نے عدالت کو بتایا کہ عرض گذار کو اس عمر اور خراب صحت کے مدنظر مستقل پیرول پر رہا کرنا چاہئے ۔سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ دوے نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو ماضی میں تین بار پیرول پر رہا کیا جاچکا ہے اور اس نے ہمیشہ وقت سے قبل جیل میں خود سپردگی کردی تھی نیز راجستھان پیرول قانون کے مطابق تین بار پیرول پر رہاہوچکے شخص کو مستقل پیرول پرر ہا کیا جاسکتا ہے لیکن راجستھان ہائی کورٹ نے عرض گذار کی مستقل پیرول پر رہائی کی درخواست مسترد کردی کہ عرض گذار کو ٹاڈا قانون کے تحت عمر قید کی سزا ہوئی ہے لہذا ہائی کورٹ کو مستقل پیرول پر رہائی کا اختیار نہیں ہے۔سینئرایڈوکیٹ سدھارتھ دے نے عدالت کو بتایا کہ عرض گذار ابھی جیل واپس جانے کی حالت میں بالکل بھی نہیں ہے، جیل حکام نے خود اپنی رپورٹ میں کہا ہیکہ عرض گذار کو مسلسل طبی نگرانی کی ضرورت ہے لہذا عرض گذار کو مستقل پیرول پر رہا کیا جائے۔ حالانکہ عدالت نے عرض گذار ڈاکٹر حبیب کو مستقل پیرول پر رہا نہیں کیا لیکن دوسری مرتبہ عبوری راحت دیتے ہوئے پیرول میں تین ماہ کی توسیع کردی ہے۔
