گھروں پر بلڈوزر چلایا جانا مکمل طور پر غیر قانونی: جسٹس گنگولی

نیشنل نیوز

دہلی :۔سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس اشوک گنگولی نے ملک کے موجودہ حالات تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک انتہائی بدترین دور سے گزررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایگزیکٹیو خود فیصلہ کررہی ہے اور عدالت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔الہ آباد میں سماجی کارکن جاوید محمد کے مکان پر بلڈورزر چلائے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے جسٹس گنگو لی نے کہا کہ یہ مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے علاوہ ملک کے کئی سابق ججوں اور ماہرین قانون نے اس پر اپنی بات رکھی ہے اور کہا ہے کہ یک طرفہ ایک خاص کمیونیٹی کے مکانات کا مسمار کیا جانا مکمل طور پر غیر قانون ہے۔انہوں نے کہا کہ اب واضح ہوچکا ہے کہ الہ آباد کے جاویدمحمد کا مکان ان کی اہلیہ کا ہے اور وہ بجلی بل، ٹیکس اور پانی بل مکمل طور پر ادا کرتی رہی ہیں۔اس کے باوجود صرف24گھنٹے کی نوٹس پر مکان توڑنا کسی بھی صورت میں قانونی نہیں ہوسکتا ہے۔جسٹس گنگولی آج کلکتہ پریس کلب میں مودی حکومت کے 8سال مکمل ہونے پر منعقد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ ان حالات میں بھی سپریم کورٹ سوموٹو ایکشن نہیں لے رہی ہے۔جب کہ سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کو لازمی بنائے۔کلکتہ یونیورسٹی کے سابق پروفیسر رتن خوشنویس نے تعلیم کے شعبے میں مودی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ مودی کے دور میں تعلیم کا شعبہ تیزی سے پرائیوٹزائشن کی طرف بڑھا ہے اور اس سے عام طبقے کے تعلیم سے محروم ہونے کا خطر ہ بڑھ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے اہم تعلیمی اداروں کے اور یونیورسٹیوں کے کیمپس کا ماحول خراب کیا جارہا ہے اور آج یونیورسٹیاں انارگی کا اڈہ بن گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اصلاح نصاب کے نام پر سائنسی فکر سے ہٹ کر بھگوا کرن کیا جارہا ہے۔ہندوستان کی تاریخ اور نصاب ایک مذاق سا بن گیا ہے۔مسلم مجلس مشاورت کے جنرل سیکریٹری حاجی عبد العزیز نے کہا کہ مودی حکومت کے دور میں ملک تیزی سے تقسیم کی راہ پر گامزن ہورہا ہے۔سماج ا س سے قبل اس طرح منقسم نہیں تھا جو آج ہے۔انہوں نے نفرت کے خاتمے کیلئے مل جل کر کام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ نفرتی طاقتوں پر لگام کسی جائے اور مودی اس معاملے میں ناکام رہے ہیں۔