بنگلورو:۔کورونا وائرس کی تیسری لہر کے خدشات کے درمیان زیکا وائرس کے معاملات نے ملک بھر میں دہشت پھیلا دی ہے۔ریاست کیرالہ میں کورونا وائرس کی وبا کے بعد ‘زیکا وائرس’ کا خطرہ بھی مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ترواننت پورم کے میڈیکل کالج میں پیر کے روز ہی متعارف کرائی گئی ٹیسٹنگ سہولیت کے ذریعے جانچ کرنے پر ایک 35 سالہ خاتون میں زیکا وائرس پایا گیا۔ جبکہ دوسرے معاملہ کی تصدیق شہر کے ایک نجی اسپتال میں کی گئی ہے، یہاں ششٹامنگلم کے رہائشی ایک 41 سالہ نوجوان میں زیکا وائرس پایا گیا۔ اس نوجوان کے نمونے کی جانچ کیومبٹور میں کی گئی۔تازہ خبروں کے مطابق مزید پانچ افراد زیکا وائرس سے متاثر پائے گئے ہیں جس کے بعد اس وائرس کی زد میں آنے والوں کی تعداد بڑھ کر 28 ہو گئی۔ وزیر صحت وینا جارج نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرین میں چار خواتین شامل ہیں جن میں دو انایرا، ایک کِجہاکّیکوٹّم اور ایک کْنّوکْجھی کی ہیں۔ علاوہ ازیں ایک شخص پتّوم کا رہنے والا ہے۔ریاست میں سب سے پہلا معاملہ 8 جولائی کو اس وقت سامنے آیا تھا جب ایک حاملہ خاتون میں زیکا وائرس پایا گیا حالانکہ وہ چھ دنوں میں صحتیاب ہو گئی اور ایک خانگی اسپتال میں صحتمند بچے کو جنم دیا۔ کورونا وبا سے نبردآزما کیرالہ میں زیکا وائرس ایک اور بحران کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔
