از:۔مدثراحمد۔شیموگہ ۔کرناٹک۔9986437327
ایک دفعہ ایک جنگل میں ایک گدھے اور گھوڑے کے درمیان زوردا ربحث چل رہی تھی،گدھے کا کہناتھاکہ آسمان کالاہے،جبکہ گھوڑے کا دعویٰ تھاکہ آسمال نیلا ہے۔گدھے اور گھوڑے کے درمیان یہ بحث دن بھر چلتی رہی،آخرکار دونوں جانوروں نے اپنے موقوف کا فیصلہ کروانے کیلئے جنگل کے راجا شیرکے پاس پہنچے۔راجانے پوری بات غور سے سُنی،آخرمیں حکم دیاکہ گھوڑے کو قیدکرلیاجائے ،اس فیصلے کوسنتے ہی گھوڑا گھبراگیااور راجاسے پوچھنے لگاکہ،بادشاہ سلامت میں تو حق پر ہوں،آسمان تونیلاہی ہے،پھر کیوں مجھے جیل میں ڈالاجارہاہے،اس پر راجانے کہاکہ یہ بات میں بھی جانتا ہوں،لیکن تمہیں سزا اس بات پر دی جارہی ہے کہ تم نے بحث کسی دانشورجانور سے نہیں بلکہ گدھے سے کی ہے۔گدھا تو گدھا ہے،تم گدھے کے پیچھے کیوں گئے۔یہ حالات بالکل آج ہماری قوم کے ہیں،ہم گھوڑے ہونے کے باوجود گدھوں کے پیچھے دوڑ رہے ہیں،جذباتی قوم بن کر صحیح اور غلط کو جانتے ہوئے بھی ایسے مدعوں کی طرف توجہ دینے لگے ہیں جس سے نہ ہمارا ذاتی لینا دیناہے اور نہ ہی اجتماعی طور پر ہم متاثر ہوسکتے ہیں۔مثلاً لوجہادکی بات کریں یا پھر گائوکشی کے تعلق سے،طلاق ثلاثہ کی بات ہو۔ان تمام امورپر بھارت میں حق حاصل کرنے کیلئے قوانین ہیں،مواقع ہیں اور ان کاموں کو انجام دینے کیلئے تنظیمیں وادارے ہیں۔بابری مسجدکی شہادت کے بعد مسلم پرسنل لاء بورڈنے معاملے کو سپریم کورٹ تک لےجاکر حق حاصل کرنے کی کوشش کی،اسی طرح سے لوجہاد اور طلاق ثلاثہ کے مدعوں کو بھی ہماری تنظیموں و ملّی اداروں نے عدالتوں اور ایوانوں کو لےجاکر حق حاصل کرنے کی کوشش کی۔ایک طرف ہماری تنظیمیں ان امور کو لیکر حق حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کررہی تھیں،دوسری طرف مسلم قوم اپنے مستقبل کوسنوارنے کیلئے اپنے آپ کو تیارکرنے کے بجائے یہ دیکھ رہی تھی کہ ہماری نمائندہ تنظیمیں وادارے کیسے اپنے موقوف اور مدعوں کواٹھارہے ہیں۔جبکہ ان حرکتوں کو انجام دینے والی آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں اپنی قوموں کو عدلیہ(جوڈیشل)،انتظامیہ(اڈمنسٹریش)،ایوانات( لیجسلیچر) اور میڈیا کے شعبے میں نمائندگی کرنے کیلئے اپنی نسلوں کو تیارکررہے تھے،جس کے مثبت نتائج آج ہمارے سامنے ہیں۔ادنیٰ سا کانسٹیبل سے لیکر دفتر تک چپراسی سے لیکر کلکٹر،کمشنر،سپریم کورٹ کا وکیل یہاں تک کہ کئی اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہوئے جج صاحبان تک اس سنگھی سوچ کے علمبردارہیں۔مگر حیرت ہے کہ مسلمانوں پر جنہوں نے سوائے چرچہ،بحث ومباحثہ،چائے کی دُکان پر بیٹھ کر افواہیںچھوڑنا،گیاریجوں اور پیپل کے درختوں کے نیچے بیٹھ کر سیاسی مبصرین کی طرح بحث ومباحثہ کرنا اور اپنے بچوں کو تعلیم سے محروم کرتے ہوئے ہوٹلوں کے برتن دھونے،نٹ بولٹ ٹائٹ کرنے،سموسوں کے ٹھیلے لگانے،سبزی فروش کرنے،پائے سرے پاک کرنے کیلئے محدود کردیاہے اور وہ طبقہ جس نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرلیاہے،اُن کو نہ ملک سے کوئی لینا دیناہے نہ ملت سے کوئی واسطہ ہے،ہم ہوئے ہمارے دو ہوئے ،اس فارمولے پر ان کی زندگی بسر ہوجاتی ہے۔آج میڈیا پر جو شوشے جاری کئے جارہے ہیں،اُن پر گدھوں کی طرح بحث ومباحثے کرنے کے بجائے ہماری نسلوں کو تربیت یافتہ بناکر اُنہیں سماجی(سوشیل)،ملّی(کمیونٹی)اور قومی(نیشنل)ذمہ داریوں سے آگاہ کیاجائے اور انہیں ایسی تربیت دی جائے جیسے وہ عام انسان نہیں بلکہ خاص شہری ہیں۔دیکھئے کس طرح سے سنگھ پریوار جو گائے کا پیشاب پینے والی قوم ہے وہ اپنی نسلوں کو تربیت دیکرآج نہ صرف اپنے گھروں کی سرپرستی کررہے ہیں،بلکہ پورے ملک پر راج کررہے ہیں اور مسلمان جنہوں نے 700 سال تک اس ملک پر راج کیاتھا،وہ بے یارومددگار ہوچکے ہیں۔ہمارے روزمرہ کے بحث کے موضوعات جنسی حراسانی،ریپ،تشدد،موب لنچنگ اور لوجہادجیسےمدعے ہوچکے ہیں،جبکہ ان حالات سے نمٹنے کیلئے نہ مسلمانوں کے پاس کوئی منصوبہ ہے اور نہ ہی نوجوان نسلوں کے پاس ایسی طاقت ہے ،جو ان شرپسندوں سے مقابلہ کرپائیں۔ہمارے پاس آج ایسے مدعے ہونے چاہیے جو قوموں کی تقدیریں بدلیں۔جب تک قوم کی تقدیربدلنے کا عزم نہیں کیاجاتااُس وقت تک آر ایس ایس،یہودی،عیسائی سب ہم پر حاوی ہوتے رہے گیں۔فی الوقت مشہور ٹی وی ڈرامہ ارطغرل کو ہی دیکھیں کہ کس طرح سے ارطغرل سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھنے کیلئے جدوجہد کرتاہے ،منگولوں سے لڑتاہے،یہودیوں اور عیسائیوں کو زیر کرتاہے اورصرف اپنی قوم کی ترقی کے تعلق سے سوچتاہے۔مسلمانوں کے پاس بھی اسی طرح کی سوچ،فکر اور عمل کی ضرورت ہے۔
