مقبوضہ اوقافی املاک کی انخلاء کے تعلق عہد نامہ دائر کرنے ہائی کورٹ کی ہدایت

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔ ریاست کے اوقافی اداروں واملاک پر جو قبضے ہوئے تھے ، ان مقبوضہ املاک کو خالی کرانے کے تعلق سے کیا کارروائی ہوئی ہے اس سلسلے میں عہد نامہ یعنی افیڈیویٹ کے ذریعہ سے تفصیلات جمع کرنے کیلئے کرناٹکا ہائی کورٹ نے ریاستی وقف بورڈ کو ہدایت دی ہے۔ سماجی وآرٹی آئی کارکن محمد عارف جمیل کی جانب سے معروف وکیل رحمت اللہ کوتوال نے کرناٹکا ہائی کورٹ میں دائر شدہ پی آئی ایل کی سنوائی کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی وقف بورڈ اس سلسلے میں فوری جواب دے، عرضی گذارنے ریاست میں قبضہ کی گئی اوقافی املاک کو خالی کرانے اور قصواروں کو سزا دلوانے کیلئے سی بی آئی جانچ کروانے کیلئے کرناٹکا ہائی کورٹ میں شکایت درج کروائی تھی۔ پی آئی ایل کے ذریعہ دائر شدہ اس عرضی پر چیف جسٹس ا ے ایس اوکھا نے ریاست کے تمام اضلاع اور بنگلورو کے اوقافی اداروں کو نوٹس جاری کی تھی۔ اڈوکیٹ رحمت اللہ کوتوال نے اپنی عرضی میں کہا تھا کہ بنگلورو سمیت ریاست کے تمام اضلاع میں قریب 29 ہزار ایکر اوقافی زمین پر قبضہ کیا گیا ہے اوراسکا غلط استعمال ہوا ہے۔ اس مقبوضہ املاک کو وقف بورڈ کے ماتحت لینے کیلئے 8 سال قبل ہی ٹاسک فورس بناکر احکامات جاری کئے تھے، لیکن وہ ٹاسک فورس اب تک اس کام کو انجام دینے میں ناکام رہی ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ وقف املاک کے قبضوں کو ہٹانے کیلئے کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔ اس پر وقف بورڈ افیڈیویٹ دائر کرےاور کرناٹکا میناریٹی کمیشن کی جانب سے پیش کردہ خصوصی رپورٹ جو ودھان منڈل کی دونوں ایوانوں میں پیش کی گئیں ہیں اس پررائے بھی دے۔ عرضی گذار عارف جمیل اوررحمت اللہ کوتوال نے کرناٹکا ہائی کورٹ سے گذارش کی ہے کہ وہ میناریٹی کمیشن کی جانب سے دائر کردہ خصوصی رپورٹ کو بہتر طریقے سے عملی جامہ پہنانے کیلئے ریاستی حکومت اورکرناٹکا وقف بورڈ کو ہدایت دے۔ رپورٹ میں درج شدہ نکات پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے مقبوضہ املاک کو چھڑانے اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے کرناٹکاحکومت کو ہدایت دے، ساتھ ہی ساتھ اس پورے معاملے کی تحقیقات اورنگرانی کرناٹکا ہائی کورٹ کے ماتحت ہی کی جائے۔ سال 2016 میں لوک آیوکتہ ادارے نے کرناٹکا حکومت کو جو رپورٹ پیش کی تھی اس رپورٹ کو ہائی کورٹ اپنے پاس منگوا کر معاملے کی جانچ کو نیا رخ دےاوقافی املاک کو بچائے۔