شیموگہ:(انقلاب نیوزبیورو):۔بی ایس یڈیورپا کےوزیر اعلیٰ کے تخت سے اُترتے ہی شیموگہ کی عوام میں اس بات کی بے چینی اور ایک سوال ضروراٹھاتھا کہ کیا اب شیموگہ ہوائی اڈے کی تعمیر مکمل ہوپائیگی بھی یا نہیں؟۔کچھ اسی طرح کی بے چینی آج وزیر نگران کار کے ایس ایشورپا نے آج ہونے والی ضلعی نشست میں ظاہر کیا ہے۔آج انہوں نے ضلع کے مختلف ترقیاتی کاموں کے متعلق ہورہی پیش رفت کا جائزہ لیا اوراس نشست میں ایک طرح کا خوف ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 384 کروڑ کی لاگت پر ہوائی اڈے کیلئے اب تک 100 کروڑ جاری ہوچکے ہیں اور اس میں 88 کروڑ خرچ بھی ہوچکے ہیں۔ لیکن اس رقم سے 6 کروڑ روپئے معاوضے کیلئے استعمال کئے گئے ہیں۔ ستمبر کے بعد 100 کروڑکے بجٹ کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ 384 کروڑ کا پیاکیج 234کروڑ کا ایک فیس بقیہ 128 کروڑ کا ایک اورفیس کا کام جاری ہے۔ اس کیلئے اب تک 86 کروڑ کی رقم خرچ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی 278 کروڑ کی ضرورت ہوگی، بی ایس یڈیورپا جب سی ایم تھے تویہ رقم جاری نہیں ہوئی۔ اب حالات پہلے جیسے نہیں رہے، فینانس کی قلت ہوسکتی ہے،اسطرح کا جواب دے کر وزیر موصوف نے ایک طرح کا خوف پیدا کردیا ہے کہ شیموگہ ہوائی اڈہ اب مکمل ہوگا بھی یا نہیں۔ اسکے جواب میں رکن پارلیمان نے راگھویندرانے یقین دہانی کرتے ہوئے کہا کہ بل روانہ ہوجائےگا تو رقم بھی منظور ہوگی اس میں خوفزدہ ہونے کی بات نہیں ہے۔
