بنگلورو:(انقلاب نیوزبیورو):۔سرکاری کام وکاج ہو یا بیرونی ممالک کا سفر ہرایک کیلئے کوروناکی ٹیسٹنگ کو لازمی قراردیاگیاہے،جس کے تحت لوگ ٹیسٹنگ کروانے کیلئے سرکاری اسپتالوں کارخ کررہے ہیں ،لیکن وہاں انہیں مایوسی ہاتھ لگ رہی ہے،کیونکہ سرکاری اسپتالوں میں آر ٹی پی سی آرکی رپورٹ دو یا تین دنوں کے بعد دینے کی بات کہی جارہی ہے اور یہ رپورٹ ائیر پورٹ ودیگر سرکاری وغیر سرکاری کام وکاج کیلئے کارآمدنہیں ہے،کیونکہ ہرجگہ پر کم ازکم48 گھنٹوں کی رپورٹ مانگی جارہی ہے،مگر سرکاری اسپتالوں میں 72 گھنٹوں کے بعد رپورٹ دی جارہی ہے۔جبکہ نجی اسپتالوں میں کوروناکی رپورٹ چھ تا آٹھ گھنٹوں میں عرضی گذارکے واٹس ایپ یامیل پر پہنچائی جارہی ہے۔لیکن اس سہولت کو حاصل کرنے کیلئے عرضی گذارکو 2500 سے 3500 روپئے خرچ کرنے پڑرہے ہیں۔اتنی بڑی رقم کوخرچ کرنے کے بعدبھی بیرونی ممالک کا سفرکرنے والے مسافروں کوراحت نہیں ہے کیونکہ انہیں ائیرپورٹ میں سفر سے پانچ گھنٹے قبل دوبارہ آرٹی پی سی آریعنی کوروناٹیسٹ کی رپورٹ دوبارہ لینی ہوگی اور انہیں یہاں پر7000 سے9000 روپئے خرچ کرنےہونگے۔درحقیقت آر ٹی پی سی آرکیلئے جو خرچ ہوتاہے وہ محض200 سے300 روپئے کا ہے لیکن اسی کام کو ہزاروں روپئے لیکر حکومت مسافروں کو لوٹ رہی ہے۔جو لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوں اور جن کی تنخواہیں بیرونی ممالک میں لاکھوں روپیوں میں ہوتو انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا،البتہ جو مزدورہیں یاپھر ویزٹینگ ویزے پر بیرونی ممالک کا رخ کررہے ہیں انہیں یہ رقم بہت بڑی ہے۔سب سے بڑاسوال یہ ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں یہ دعوے کئے جارہے ہیں کہ وہ شہریوں کو بہترین سہولیات دے رہے ہیں۔لیکن معمولی سے رپورٹ پیش کرنے کیلئے تین دن کا وقت کس لئے لیاجارہاہے؟اور اس طرح کے ظلم کو لوگ کیوں خاموشی سے جھیل رہے ہیں۔
