صحیح خبروں کاترجمان وارتھا بھارتی پر حکومت کا قہر; سی اےا ے اور سچی خبروں کو پیش کرنے پر اشتہارات پر لگی روک

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
بنگلورو:(انقلاب نیوزبیورو):۔ریاست کے اہم کنڑا اخبارات میں شمارہونے والے وارتھا بھارتی کنڑااخبار پر ریاستی حکومت کی جانب سے قہر ٹوٹنے لگاہے اور اس کی صحیح وسچی ترجمانی سے تنگ آکر ریاستی حکومت نے اخبار کو سرکاری اشتہارات سےمحروم کررکھاہے،جس کی وجہ سے وارتھا بھارتی کو پچھلے دو سالوں سے بڑے پیمانے پر نقصان اٹھانا پڑرہاہے۔وارتھا بھارتی منگلورو میں17 سال قبل معروف ادیب کنڑا مفسر قرآن وصحافی عبدالسلام پوتیگے کی ادارت میں شروع ہواہے اور پچھلے17 سالوں سے مسلسل حق وباطل کی نشاندہی کررہاہے۔ریاست میں مسلم وحق گو میڈیاکی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے وارتھا بھارتی کاآغاز کیاگیاتھا جس کے بعد اس اخبارنے قلیل مدت میں فرقہ پرستوں کو پریشان کررکھاتھا۔لیکن اس اخبار پر سب سے زیادہ دبائو اُس وقت پڑا جب منگلوروکے پولیس کمشنر ہرشا کوکرناٹکا حکومت نے ڈیپارٹمنٹ آف انفارمیشن کے ڈائریکٹرکے طو رپر تعینات کیا۔دراصل دو سال قبل منگلورومیں سی اے اے کے خلاف ہونے والے احتجاجات اور فسادات میں وارتھا بھارتی نے اہم کردار اداکرتے ہوئے پولیس کی غنڈہ گردی،ظالمیت اور جہالت کے تعلق سے لفظ لفظ کھول کر سچائی کاترجمان بننے کی کوشش کی تھی،جس کے سبب کمشنر ہرشا کاتبادلہ کردیاگیاتھا۔تبادلہ پاکر آئی پی ایس افسر ہرشا محکمہ اطلاعات کے ڈائریکٹر بن گئے اور انہوں نے آتے ہی وارتھا بھارتی کو حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے اشتہارات پر قینچی چلا دی،جس کے سبب وارتھا بھارتی لاکھوں روپیوں کا ماہانہ نقصان ہورہاہے ۔ اس سلسلے میں محکمہ کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیاگیاہے،البتہ یہ بات واضح ہے کہ آئی پی ایس افسر ہرشا وارتھا بھارتی سے اپنی دشمنی نکال رہے ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ وارتھا بھارتی پرحکومت کی جانب سے شکنجہ کساگیاہے،اس سے قبل بھی حکومت مخالف خبر جاری کرنے پر وارتھا بھارتی کے رپورٹر کو منگلوروپولیس نے نوٹس جاری کی تھی اورسنوائی کیلئے پولیس کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت دی گئی تھی،لیکن بعدمیں اس نوٹس کو ہائی کورٹ نے مسترد کردیاتھا،اس سے کچھ عرصے بعد فیس بک نے بھی وارتھا بھارتی کے آفیشل پیج کو بلاک کردیاتھا،جسے بعدمیں بغیر کوئی وجہ بتائے اَن لاک کردیاگیا۔حکومت کی طرف سے جس طرح کی ستم ظریفی وارتھا بھارتی ہورہی ہے وہ نئی بات نہیں ہے ،اس سے صاف واضح ہوتاہے کہ مسلم میڈیا چلانا آسان کام نہیں ہے بلکہ جوئے شیر لانے کے برابرہے۔غورطلب بات یہ ہے کہ ایک طرف حکومت کی طرف سے وارتھا بھارتی جیسے اخبارات کو اشتہارات نہیں مل رہے ہیں اور نہ ہی انہیں حکومت کی کوئی سہولت مل رہی ہے،تو دوسری طرف مسلم میڈیاکی تائید کرنے والے تاجران،ادارے اورتنظیمیں بھی ایسے اخبارات کی تائیدمیں نہیں اُتر رہے ہیں۔صرف وارتھا بھارتی نہیں انقلاب بھی ہے تعصب کاشکار : ۔ حکومتوں کے تعصب کا شکار صرف وارتھا بھارتی ہی نہیں بلکہ آج کاانقلاب بھی ہے،جسے محدود سرکاری اشتہارات ملتے ہیں اور بعض موقعوں پر بالکل بھی اشتہارات موصول نہیں ہوتے۔کسی بھی اخبارکیلئے اشتہارات ہی شہ رگ ہوتے ہیں ،لیکن بار بار مسلم میڈیاکا مطالبہ کرنے والے لوگ ا س طرف توجہ ہی نہیں دیتے کہ جو میڈیااس وقت قوم وملت اور زبان کی ترجمانی کررہاہے،اس کا ساتھ دینا چاہیے۔وارتھا بھارتی ہو یا آج کاانقلاب یہ وہاں کے عملے یا مالکان کی مجبوری نہیں بلکہ قوم وملت کی ضرورت ہے اور ایسے اخبارات کی تائید کرنا،کفالت کرنا اور مددکرنا ہر ایک ہوشمند شہری کی ذمہ داری ہے۔