بنگلورو:۔ٹرانسپورٹ ملازمین کے احتجاج کے دوران خدمات پر حاضر ہونےو الے کے ایس آر ٹی سی بس ڈرائیور کو ان کے ہی محکمہ کے چند شر پسندوں نے پتھرائو کرتے ہوئے ہلاک کردیاتھا،اب ان کے لواحقین کو ریاستی حکومت کی جانب سے30لاکھ روپئے کا معاوضہ اور ان کے لواحقین میں سے ایک کو سرکاری ملازمت دینے کا اعلان کرناٹکا حکومت نے کیاہے۔ڈرائیور نبی رسول اواٹی کی وفات کے تعلق سے کے ایس آر ٹی سی نے اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ عوام کو سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے نبی رسول اواٹی اپنی ڈیویٹی پر حاضر ہونےکیلئے جمکھنڈی کے قریب اپنی بس میں سوارہوکر جارہے تھے،اس دوران کچھ شرپسندوںنے ان پر حملہ کیاجس کی وجہ سے نبی رسول اواٹی کی موت واقع ہوئی ہے۔کے ایس آر ٹی سی کی جانب سے ان کے لواحقین کو30 لاکھ روپئے اور گھر کے ایک فرد کو سرکاری نوکری بطور معاوضہ دیاجائیگا۔ریاستی وزیر برائے ٹرانسپورٹ لکشمن سائودھی نے نبی رسول اواٹی کی موت پر گہرت غم کااظہار کرتےہوئے کہاکہ ان کی موت محکمہ کیلئے افسوسناک ہےاور ان کی موت کیلئے ذمہ دار ان کے ہی ہم پیشہ لوگوںکی شرپسندانہ حرکت شرمناک ہے۔پُر امن طریقے سے کئے جانےو الے احتجاجات سے حکومت کو کوئی پریشانی نہیں،لیکن پُر تشدد احتجاجات کو کوئی قبول نہیں کریگا۔واضح ہوکہ نبی رسول اواٹی کو سال2014 میں ان کی خدمات پر بہترین ڈرائیور کا ایوارڈ بھی محکمہ نے دیکر ان کی ہمت افزائی کی تھی۔
