شیموگہ :۔بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری سی ٹی روی نے پچھلے دنوں مدارس اسلامیہ کے تعلق سے ایک غلط بیانی کرتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ مدارس سے طالبانی تیار ہوتے ہیں۔اگر ایسا ہے تو انہیں20 کروڑ بھارتی مسلمانوں کی فہرست میں مدارس میںتیار ہورہےطالبانیوں کی فہرست کاحساب وکتاب عوام کودینا ہوگا۔ اس بات کا اظہار شیموگہ سٹی کانگریس اقلیتی شعبہ کے سٹی صدر محمد نیہال نےکیا ہے انہوں بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری سی ٹی روی کو خبردارکرتے ہوئے کہا کہ وہ اقلیتوں کے بارے میں یا اقلیتی مدارس،مساجد یامسلمانوں کے خلاف غلط بیان بازی کرنا بند کردیں۔ انکا یہ بیان کہ مدارس اسلامیہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء دہشت گردی کی طرف مائل ہوںگے۔ناقابل برداشت ہےاور قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک سیاستدان کاکام ہونا چاہئے کہ وہ سماج میں امن وسکون، محبت کا پیغام عام کریں لیکن سی ٹی روی اسکے برعکس اپنے مقام اورعہدے کی عزت کو نیلام کرنے کی حرکتیں کررہے ہیں اور وہ ان حرکتوں سے باز نہیں آرہے ہیں۔ انکے بیانات ریاست کے دوبڑے طبقوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کا کام کرتے ہیں۔ انکا یہ کہنا کہ مدارس اسلامیہ میں طالبانی تیار ہوتے ہیں یہ ایک نہایت ہی غیر ذمہ دارانہ اور شرانگیز بیان ہے۔ انہیں چاہئے کہ وہ اپنی زبان کو قابو میں رکھیں ۔ انہیں کوئی حق نہیں کہ وہ کسی بھی مذہب کے بارے اسطرح کی باتیں کریں ، اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو وہ ایک بد اخلاق انسان ہیں۔ کیونکہ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ دنیا کا ہر مذہب صرف انسان کو انسانیت اور اخلاقی تعلیم اوراپنے مذہب کیلئے محبت اوروفاداری کا سبق سکھاتا ہے لیکن ان سب باتوں سے سی ٹی روی بالکل بھی انجان ہیں تبھی اسطرح کے نا زیبا بیانات دیتے ہیں کہتے ہوئے برہمی ظاہر کی۔ محمد نیہال نے مزید بتایا کہ سی ٹی روی کو بھارت کی تاریخ تک کا پتہ نہیں جبکہ وہ ایک سیاست دان ہیں، ہم انہیں یاد دلاتیں ہیں کہ یہی وہی مدارس اسلامیہ سے تیار ہونے والی نسلیں تھیں جنہوں نےبھارت کی جنگ آزادی میں اپنی جانوں کی قربانیاں دی تھیں۔سی ٹی روی اقلیتوں کو اپنی نفرت کا نشانہ بنانے سے باز آجائیں ورنہ انہیں مستقبل میں بہتر جواب دیا جائیگا۔
