بنگلورو:(انقلاب نیوزبیورو):۔ملک میںروزبروز خواتین پر جاری مظالم کی مذمت سخت کرتےہوئے ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کی شعبہ خواتین کی جانب سے ریاست گیر مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔اس بات کا اظہار ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کےشعبہ خواتین کی ریاستی صدر نے کیا ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعہ بتایا کہ بتاریخ 12 سے 19 ستمبر 2021 یہ مہم تک جاری رہے گی۔” خواتین کی حفاظت ۔ ملک کی ذمہ داری” کےعنوان پر یہ مہم چلائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق صرف ایک سال میں خواتین پر جنسی حملوں کی شرح میں 43 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے سال 580 معاملے درج ہوئے ہیں تو امسال 833 معاملے درج ہوئے ہیں۔اسی طرح تشدد کی شرح 39 فیصد بڑھی ہے اور 733 سے بڑھ کر 1022 اور اغوا کی وارداتیں گزشتہ سال 1026 سے بڑھ کر رواں سال 1580 ہو گئیں ہیں۔سال 2020 کے مقابلے میں 2021 کے پہلے چھ ماہ میں دہلی میں خواتین کے خلاف جرائم میں 63.3 فیصد اضافہ ہواہےیہ بات دہلی پولیس کے مشترکہ اعداد و شمار سے پتہ چلتاہے ۔خواتین کو خوف کے ماحول میں رہنے کی نوبت آچکی ہے ، عوامی مقامات پر ، اسکول اور کالج کے ماحول میں ، کام کی جگہ پر ، جنسی ہراسانی ، قتل ، عصمت دری ، جنسی تنقیدجیسےکئی واقعات نے ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ جہاں بیٹیوں کےا سکول جانے سے لیکرانکے گھرواپس آنے تک خوف سے زندگی گزارنا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ ہماری ریاست میں بھی صورتحال مختلف نہیں ہے۔ میسور میںایک طالبہ کے ساتھ ہوئی زیادتی کے معاملے نے پوری ریاست کو ہلا کر رکھ دیاہے۔اتنا ہی نہیںریاست میں عصمت دری کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ریاست میں صرف 7 ماہ میں عصمت دری کے 305 واقعات سامنے آئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ماہ 44 کیس رپورٹ ہوتے ہیں۔اتنا سب کچھ ہوجانے کے بعد بھی ریاستی حکومت درتھراشٹر کی طرح اپنی آنکھ پرپٹی باندھ کر حکومت کررہی ہے۔ زیادتی کے شکار خواتین سے بات چیت کرنے سمیت مختلف مالی امداد اور تسلی کے مراکز کو مالی مشکلات کا سبب بتاکر بند کردیا جارہا ہے ، حکومت کےاس خواتین مخالف عمل کی سخت مذمت کی جاتی ہے۔ اذیت کی شکار اور ہنگامی حالات میں خواتین کو عارضی پناہ گاہ ، مالی امداد ، تعلیم ، روزگار ، مفت قانونی امداد وغیرہ کی ضرورت سمیت کئی طرح کی مدد ایک ہی چھت کے نیچے ملنی چاہئے۔ اس فکر کے ساتھ خواتین اوربچوں کی بہبودی محکمہ سےلیکر تسلی کےمراکز تک درست کئے جانے چاہئے۔ لیکن حکومت نے اسے نظر انداز کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم کے ذریعے حکومت کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ خواتین کی حفاظت کیلئے حکومت کو جوابدہ ہونا پڑیگا۔
