رہزنوں سے محتاط رہیں

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔9986437327
سلطان صلاح الدین ایوبی رحمتہ اللہ علیہ کو انکے جاسوسوں نے بتایا کہ ایک عالمِ دین ہیں جو بہت اچھا خطاب کرتے ہیں لوگوں میں بہت مقبول ہو گئے ہیں۔سلطان نے کہا آگے کہوجاسوس بولے "کچھ غلط ہے جسے ہم محسوس کر رہے ہیں مگر لفظوں میں بیان نہیں کرپا رہے”سلطان نے کہا "جو بھی دیکھا اور سنا ہے بیان کرو”جاسوس بولے کہ وہ کہتے ہیں کہ "نفس کا جہاد افضل ہے، بچوں کو تعلیم دینا ایک بہترین جہاد ہے، گھر کی زمہ داریوں کیلئے جد وجہد کرنا بھی ایک جہاد ہے۔سلطان نے کہا تو اس میں کوئی شک ہے؟؟جاسوس نے کہا کہ انہیں کوئی شک نہیں لیکن اس عالم کا کہنا ہے کہ:”جنگوں سے کیا ملا؟؟ صرف قتل وغارت گری صرف لاشیں، جنگوں نے تمہیں یا تو قاتل بنایا یا مقتول "سلطان بے چین ہو کر اٹھے، اسی وقت عالم سے ملنے کی ٹھانی، ملاقات بھیس بدل کر کی اور جاتے ہی سوال کردیا کہ "جناب ایسی کوئی ترکیب بتائیے کہ بیت المقدس کو آزاد اور مسلمانوں کے خلاف مظالم کو بغیر جنگ کے ختم کرایا جاسکے؟” ،عالم نے کہا دعا کریںسلطان کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا، وہ سمجھ چکے تھے کہ یہ عالِم پوری صلیبی فوج سے بھی زیادہ خطرناک ہےسلطان نے سب سے پہلے اپنے خنجر سے اُس عالم کی انگلی کاٹ دی، وہ بری طرح چیخنے لگا۔اب سلطان نے کہا کہ اصلیت بتاتے ہو یا گردن بھی کاٹ دوںپتہ چلا کہ وہ سفید پوش عالم ایک یہودی تھا، یہودیوں کو عربی بخوبی آتی تھی، جسکا اس نے فائدہ اٹھایاسلطان نے پایا کہ اسکے جیسا درس اب خطبوں میں عام ہو چلا تھا، بڑی مشکل سے یہ فتنہ روکا جاسکا۔فتنہ اس وقت بھی پوری آب وتاب سے رواں دواں ہے۔آج بھی ملت اسلامیہ میں صحیح وغلط کی پہچان نہیں ہوپارہی ہےاور ملت اسلامیہ مخصوص شعبوں پر ہی کام کررہی ہے۔ آج بھی ہمارے درمیان کچھ ایسے لوگ ہیں جو حرکت پر زیادہ توجہ دینے کے بجائے صرف اورصرف عبادت کو ہی آخری حد سمجھ بیٹھے ہیں۔ کورونا کی ہی بات لے لیں، پچھلے 8 مہینوں سے کورونا کے تعلق سے جو ڈروخوف لیکر جو لوگ پریشان ہورہےتھے وہ کچھ دنوں سے مطمین تھے۔ لیکن اب دوبارہ کورونا کی دوسری لہر کا نام دے کرلوگوں کو خوفزدہ کررہی ہے۔ خصوصاً مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑ رہی ہے۔ ان حالات مسلم تنظیمیں وادارے حکومت کو انکی غلطیاں یاد دلانے اورحکومت کی حیثیت بتانے کے بجائے وہ جو کہہ رہے ہیں اسے مان کر چلنے کیلئے تیاریاں کررہے ہیں۔ جسطرح سے سلطان صلاح الدین ایوبی کے دور میں ایک عالم دین نے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی، ہمارے درمیان بھی کچھ تعلیم یافتہ اوردانشوران بھی موجودہیں جو حکومتوں کی بولی بولتے ہیں اور عام مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں ، بات چاہئے کوویڈ کی ہو یا ملی معاملات کی ہر رخ پر ایسے لوگوں کا استعمال کرتے ہوئے عام لوگوں کا استحصال کیا جارہا ہے۔ اوربعض لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ایسے بہروپیوں اوررہزنوں سے محتاط رہیں۔