بھدراوتی: (انقلاب نیوزبیورو):۔حال ہی میں دہلی کی رابعہ سیفی نامی لڑکی کی عصمت ریزی کے بعد بےرحمی سے اس کا قتل کیا گیاہے۔ اس معاملے کو لے کر بھدراوتی کی پرگتی پرا سنگھٹنا وکوٹہ کی جانب سے بھدراوتی تحصیلدار دفترکے روبرو احتجاج کرتے ہوئے تحصیلدار کے ذریعہ صدر ہند کو یادداشت پیش کی گئی ۔احتجاجیوں نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رابعہ سیفی کے ساتھ جو حادثہ پیش آیا وہ انسانیت کو شرمسار کرنے والاہے ۔ لیکن افسوس کے مرکزی حکومت اس پر خاموش ہے – اس کے علاوہ دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال بھی کچھ نہیں بول رہے ہیں ۔ ملک میں خاتون غیر محفوظ ہے ایسی حکومت اورایسے حاکموں کی بےحسی قابل افسوس ہے۔مہاتماگاندھی نے کہا تھا جس دن رات میں ملک کی خواتین بےخوف گھومیں گی اُس دن صحیح معنوں میںملک آزاد ہوگا ۔ لیکن آج دن کے اُجالے میں راجدھانی میں اس طرح کے معاملے پیش آتے ہیں تو دیگر ریاستوں کا کیا ہوگا ۔احتجاجیوں نے مزیدبرہمی کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ صرف قانون بنانے سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ اس قانون پر سختی سے عمل بھی ہونا چاہیے۔ اس طرح کی وارداتوں سے دیش کی بیٹیاں خوفزدہ ہیں – اس وقت حکومت کو سنجیدہ ہونا ہوگا – کہ دیش کی بیٹیوں کو بےخوف جینے کی آزادی دینی ہوگی۔مظاہرین نے صدر ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ پچھلے ایک ہفتے میں ہونے والے عصمت دری اور قتل کی وارداتیں جس میں نہ صرف رابعہ سیفی کا معاملہ شامل ہے بلکہ میسور کی طالبہ، ممبئی میں خاتون پر عصمت دری، دلت خواتین پر تشدد اور بچوں کی عصمت دری لوٹنے والے ایسے وحشی درندوں پر سخت کارروائی کرتے ہوئےپھانسی کی سزا دی جائےاور ان معاملوں کی سنوائی میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے اورفوری فیصلہ سناتے ہوئے عصمت دری کے مجرموں کو پھانسی کی سزا سنانےکی اشد ضرورت ہے۔اس موقع پرتنظیم کے ذمہ داران میں مرتضی ٰ خان ،ظہیر جان، باباجان وغیرہ موجودتھے۔
