شیموگہ:(انقلاب نیوزبیورو):۔ بی جے پی حکومت نے بغیر کسی بحث کے نافذ کردہ قومی تعلیمی پالیسی ، تعلیمی شعبے کی نجکاری کا باعث بنے گی۔اس بات کااظہار سابق وزیر تعلیم کمنے رتناکر نے کیا ہے۔ انہوں نےآج ایک پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نہایت جلد بازی میںقومی تعلیمی پالیسی(این پی ای) نافذ کیا جارہا ہے۔ کرناٹک کےوزیر برائےاعلیٰ تعلیم نےبھی اس کا باضابطہ افتتاح کیا ہے۔ لیکن اس میں شامل خامیوں کوایک بند لفافے میںڈال کر چھپانا بہت ہی خطرناک ہے۔ اس نظام کے تحت جو بچے تعلیم سے محروم رہے ہیں وہ دوبارہ اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکیں گے۔ کسی بھی شعبے کی نجکاری نہ کی جائےایسی خواہش عوام حکومت سے کررہی لیکن باوجود اسکےتعلیمی شعبے پر لاگو کئے گئے اس نئے قانون کی وجہ سےیہ شعبہ مزید کھائی میں گر چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیمی میدان کو تبدیلی کی ضرورت ہےاس بات پر اتفاق کیا جاسکتا ہے، لیکن بھارت جیسے ملک میں کسی بھی نئی تعلیمی پالیسی کو نافذ کرنے سے قبل ایک لمبی بحث ہونی چاہیے، عوام کی رائے جاننی چاہئے۔ لوک سبھا ، راجیہ سبھا اور اسمبلی میں بحث ہونی چاہیے۔ لیکن اس نئی پالیسی پر کبھی بحث نہیں ہوئی۔بلکہ اسے اچانک ہی بحث میں لائے بغیر نافذ کردیا گیا ہےاس عمل پرکانگریس پارٹی شدید مذمت کرتی ہے۔ اس تعلیمی پالیسی کو نافذ کرنے کیلئے کستوری رنگن جیسے سائنسدان بھی مقرر کیے گئے تھے۔لیکن یہ سنگھ پریوار کےہی ممبرہیںاور تمام اراکین ہی بی جے پی سےبھرے پڑے ہیں۔ دیگر کوئی بھی کمیٹی اس میں شامل نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ بغیر کسی تیاری کے نافذ ہوئی اس قومی تعلیمی پالیسی کو جب تک اس میں موجود خامیوں کو دور نہیں کیا جاتااسکا نفاذ نہیں ہونا چاہئے۔اس تعلیمی پالیسی سے نوکریاں گنوانی پڑ سکتی ہیں۔ پورہ تعلیمی شعبہ نجی کاری کے قبضہ میں ہوجائیگا۔ مزید بتایا کہ 3 سے 18 سال کےبچوں کے تعلیمی اخراجات جوحکومت برداشت کرتی ہے اس نئی پالیسی سے نجی شعبے کوبڑھاواملےگا اکثر غریب بچوں کیلئےپڑھنا مشکل عمل بن جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے پہلے ہی اس نئی قومی تعلیمی پالیسی کی شدید مذمت کرچکی ہے اور کانگریس اس کی مخالفت میں آواز اٹھائے گی۔ کانگریس اسے بغیر کسی تبدیلی کے اس نئی قومی تعلیمی پالیسی کو نافذ نہیں ہونے دےگی۔ پریس کانفرنس میں این رمیش ، دیوکمار ، یمونارنگے گوڑا ، راگھویندر ااور دیگر موجودتھے۔
