ہری ہر(انقلاب نیوزبیورو):۔ (الطاف رضوی) داونگیرے ضلع ہری ہر تعلقہ کے ملے بنور جامع مسجد وملحق جائیداد کی سالانہ آمدنی کا تیس فیصد حصہ تعلیم و فلاحی کاموں پر خرچ کئے جانے کا نظام قابل ستائش ہے۔پہلی سے دسویں جماعت تک کے 9 اردو اسکول اور بھائی چارے کے فروغ کو تقویت دیتے ہوئے پسماندہ طبقہ کے طلباء تعلیم حاصل کررہےجن میں788 طلباء کی نشاندہی کرتےہوئےطلباء میں نوٹ بُک اور دیگر اشیاء کی تقسیم کی گئی جس اردو اسکولوں میں تعلیم حاصل کررہے طلباء کی حوصلہ افزائی کے ساتھ سرکاری اسکولوں میں طلباء کے داخلے میں معاؤن ہوگا۔اس بات کااظہارہری ہر اسمبلی حلقے کے رکن اسمبلی رامپا نے کیاہے۔انہوں نے آج ضلع وقف آفیسر سید معظم پاشاہ کی صدارت میں منعقد اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئےکہاکہ وقف اداروں کی جانب سے تعلیم کے ساتھ غریب بے سہارا بیمار لوگوں کی مدد قابل ستائش کا م ہے۔جلسہ میں مہمان خصوصی کے طو رپر شریک سابق ضلع وقف مشاورتی کمیٹی چیرمن محمد سراج احمد نےبات کرتے ہوئے کہاکہ آج کا یہ اجلاس ایک یادگار ہے ،کیونکہ ریاست میں یہ پہلا قدم ہے جووقف ادارے کی سالانہ آمدنی کے تیس فیصد حصہ باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے والوں کیلئے خرچ کیاجارہاہے،اس کے علاوہ بیماریوں میں مبتلا افراد کی مددکرنا جس میںڈیالیسس کاشکار افراد کیلئےفی شخص 15000 روپئےکے طو رپر مالی تعائون کرنا قابل ستائش پہل ہے۔مزید انہوں نے کہاکہ اساتذہ کے علاوہ بچوں پر والدین کی توجہ ضروری ہے کیونکہ ایک ماں کامہذب و تعلیم یافتہ ہونا پورے معاشرے پر اثرکرتاہے۔ ،جامع مسجد وقف (سُنی) ملے بنور ادارے کے اڈمنسٹریٹر عبدالطیف نے کہاکہ میں نےجب اس ادارے کا چارج لیا اُس وقت ادارے کے بینک اکائونٹ میںصرف ”1770 "روپئےموجود تھے اور اس ادارے سے اب تک جملہ "64” لاکھ روپئے کی آمدنی سے سال 2014 ءسے 2020 ء تک کل وقف کانٹریبوشن بقایا 10 لاکھ روپیئے ادا کیا گیا ۔مسجد کا تعمیری کام و قبرستان کے کمپائونڈکا وغیرہ ترقیا تی کام انجا م دئے گئے ۔ہما رے لئے ضلع وقف آفیسر سید معظم کے رہنماخطوط نہایت کارگر ثابت ہوئے ان کے مشورے کے مطابق ادارے کا سارا کام مالی لین دین بینک کے ذریعہ ہی انجام دیا گیا۔جلسہ کی نظامت محمد شریف خان معاون معلم ،قرآت محمد اظہار عالم رضوی نعت محمد تنویر اور استقبالیہ عبدالطیف نے انجام دئے ،مولانا عبدالرحمن جمعہ مسجد ،بی محمد رفیق میر مدرس کے علاوہ سینکڑوں افراد شریک رہے ۔داداپیر معاؤن معلم کے ذریعہ شرکا ء کے شکریہ کے ساتھ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔
