شیموگہ: (انقلاب نیوزبیورو):۔قوم مسلم میں جہاں ایک طرف بچے تعلیم کے شعبے میں پیچھے ہیں اور انہیں آگے لانے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں وہیں قوم میں کچھ بچے ایسے بھی ہیں جو اپنا اور اپنے والدین کا نام روشن کرنے اور اپنی زندگی کو بامقصد بنانے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں ایسے طلباء میں سے ضلع داونگیرہ کے چنگیری تعلقہ کے نیلور دیہات سے تعلق رکھنے والے محمد منصور کے بیٹے محمد انس ہیں جنہوں نے امسال کے سی ای ٹی امتحان میں 170 واں رینک حاصل کرتے ہوئے کامیابی کی بلندیوں کو چھونے کا آغاز کیا ہے اور وہ اس بات سے پر امید ہیں کہ میڈکل داخلوں کے لئے ہونے والے ین ای ای ٹی میں بھی انہیں اچھی کامیابی ملے گی۔ اس سلسلے میں محمد انس اور ان کے والد محمد منصور سے روزنامہ کے خصوصی گفتگو کی اس دوران محمد انس نے کہا کہ میں بھی دسویں جماعت تک عام طلباء کی طرح معمولی محنت کیا کرتا تھا لیکن جب دسویں جماعت میں تھا اسوقت میرے اساتذہ نے میری رہنمائی کی، انکی رہنمائی کو بنیاد بناکر میں یس یس یل سی میں کامیاب رہا اور اس دوران میں نے سرکاری اسکول میں ہی تعلیم حاصل کی تھی۔۔ جب، میں پی یو سی کی تعلیم کے لئے بیدر پہنچا تو وہاں پر شدید محنت کرنی پڑی، اساتذہ کے تعاون، رہنمائی اور رہبری کے علاوہ والدین کا ساتھ اور ہمت افزائش بھی میرے لئے اہم رہی۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری کامیابی کے لئے تعلیمی اداروں کا بہترین ہونا ہی ضروری نہیں بلکہ ہماری محنت اور جدوجہد ہی اہم ہے، ہر تعلیمی ادارہ یہ چاہتا ہے کہ انکے طلباء نمایاں کامیابی حاصل کرے۔ محمد انس نے مزید بتایا کہ طلباء کی کامیابی انکی روزانہ کی محنت پر ہی منحصر ہے، اس دن کا سبق یاد کرنا، روزانہ نمازوں کا اہتمام کرنا، تہجد پڑھنے کی کوشش کرنا اور اساتذہ کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرنے سے ہی کامیابی مل سکتی ہے، طلباء الگ الگ آتھرس کی کتابیں لے کر پڑھنے کے بجائے کسی ایک آتھرکی کتاب کا مطالعہ کریں کیونکہ الگ الگ آتھرس کو سامنے رکھنے سے ہم الجھن کا شکار ہوسکتے ہیں۔ تمام آتھرس سوچ سمجھ کر ہی کتابیں لکھتے ہیں اور وہ انکی سوچ کو ماہرین انکار نہیں کرتے۔ انس نے بتایا کہ انکی کامیابی کے پیچھے انکے والدین اور اساتذہ کابہت بڑا ساتھ ہے، والدین نے مجھے محدود وسائل کے باوجود میری تعلیم کے لئے کسی بھی طرح کی رکاوٹ آنے دی۔ مُحمد انس کے والد محمد منصور نے اپنے بیٹے کی کامیابی پر فخر کرتے ہوئے کہا کہ ہم مڈل کلاس کے لوگ ہیں باوجود میرے بیٹے محمد انس نے کامیابی کی جو سیڑھی پارکی ہے وہ میرے لئے بہت بڑی خوشی کی بات ہے۔ ہم نے ہمیشہ اپنے بچوں کی نگرانی کی ہے، اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے کامیاب ہوں، گمراہ نہ ہوں، با اخلاق ہوں اور تعلیم میں سب سے آگے آئیں تو ہماری یہ کوشش ہونی چاہئے کہ ہم اپنے بچوں کی نگرانی خود کریں، ہر دن ایک -دوگھنٹے بچوں پر توجہ دیں اور دیکھیں کہ وہ کیا پڑرہے ہیں، کس کی صحبت میں ہیں، کہاں جاتے ہیں اور کن سرگرمیوں میں وہ مصروف ہیں، ہمارے بچوں کی نگرانی اور بہتر زندگی کے لئے ہمیں ہمارے بچوں کو ہی اپنے ماتحت رکھتے ہوئے انکی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ دوسرے بچوں کی نکتہ چینی کریں ۔ہم بتادیں کہ محمد منصور نے اپنے بیٹے محمد انس کی کامیابی پر رشک کرتے ہوئے جذباتی ہوگئے اور انکی آنکھوں سے آنسوں روانہ ہوگئے۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ جیسے میرے بیٹے کی کامیابی پر مجھے خوشی حاصل ہورہی ہے اسی طرح سے ہر ایک والدین کی بھی یہی آرزو رہتی ہے کہ انکے بچے کامیاب ہوں اور میں بچوں سے گزارش کرونگا کہ وہ سنجیدگی سے تعلیم پر توجہ دیں ۔
