ہمیں گاندھی جی کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے تو ان کے اصولوں کو اپنانا ہوگا: حافظؔ کرناٹکی

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شکاری پور:۔ گلشن زبیدہ میں یوم مہاتما گاندھی کے موقع سے ہندوستان کی سچی سیکولر تصویر پیش کرنے والی مجلس کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع سے اسٹیج پر جہاں علماء، شعرا، پادری اور سوامی حضرات ایک ساتھ جلوہ افروز تھے وہیں حکومت سے تعلق رکھنے والے بھی کئی اہم افراد موجود تھے۔شکاری پور، شیموگہ کرناٹک کی سرزمین بڑی زرخیز واقع ہوئی ہے۔ یہاں کئی اہم شخصیات نے جنم لیااور ملک گیرہی نہیں عالمگیرشہرت حاصل کی اور بھارت کے سیکولر اور جمہوری چہرے کو تابناک بنایا۔ ساتھ ہی سیاسی بصیرت، ادبی فراست، علمی ریاضت، خدمت خلق اور رفاہ عام کے کاموں سے اس شہر کی شناخت کو مستحکم کیا ایسی شخصیات میں تعلیمی وسماجی خدمت گار ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کا نام بھی شامل ہے۔ انسانیت کی بنیاد پر خلق خدا کی بھلائی کے لیے کام کرنے والے لوگوں کی دنیا میں کمی نہیں ہے۔ مگر ان کی خدمات کا اعتراف کرنے اور ایسے لوگوں کا اعزاز کرنے والوں کی بہر حال بہتات نہیں ہے۔ ریاست کرناٹک اس معاملے میں بھی اپنی انفرادیت رکھتی ہے۔ شہرچترادرگہ میں ایک بہت قدیم مٹھ ہے جو مرگا شری کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جس کی تعلیمی، رفاہی اور سماجی خدمات قابل ستائش ہے۔ یہ مٹھ تعلیمی، سماجی ، فلاحی، رفاہی، اور آپسی اتحاد اور انسانیت کی حفاظت کرنے والے ممتاز اشخاص وافراد کو اپنے اعزاز سے نوازتی رہی ہے۔ اب تک یہ مٹھ، ملالہ یوسف زئی، شبانہ اعظمی اور سی کے جعفر شریف جیسے کئی شخصیات کو اپنے قابل قدر اعزاز ات سے نوازچکی ہے۔ اس بار اس مٹھ نے اعزاز کے لیے ڈاکٹر حافظ کرناٹکی کا انتخاب کیا ہے۔ جنہیں وہ13.10.2021کوباضابطہ طور پر اعزاز سے نوازے گی۔ مٹھ کے سوامی شری مہابسواپربھو اس اعزاز کا اعلان کرنے اور باضابطہ طور پر پترپیش کرنے کی غرض سے شکاری پور ۲؍اکتوبر یوم گاندھی کے موقع سے تشریف لائے۔ مقصدیہ تھا کہ گاندھی جی کے خوابوں کے بھارت کی تعمیر میں اپنا نمایاں رول اداکرنے والے کو اعزاز دئیے جانے کا اعلان اسی موقع سے کیا جائے۔یوم مہاتماگاندھی کے شاندار جلسے کی صدارت کے فرائض حافظؔ کرناٹکی نے اداکیے۔ مہمان خصوصی مرگاشری داونگیرہ مٹھ کے معزز قاصد کی حیثیت سے سوامی شری مہاپربھو بسوا پربھو نے شرکت کی توشکاری پور کے مٹھ کے سوامی شری مہاپربھو چن بسوانے بھی مہمان کی حیثیت سے شرکت کی۔ شکاری پور کے چرچ کے فادر ڈاکٹر سنتوش ونسنٹ ڈی المیرا نے بھی اس موقع سے بطور مہمان کے شرکت کی۔ حکومت کرناٹک کے پلاننگ کمیشن کے ممبر ڈاکٹر سی آر نصیراحمد نے شرکت کی۔ان حضرات گرامی کے علاوہ بہت سارے علما، شعرا، اور معززین شہر اور ریاستی کنڑا صحافتی تنظیم کے صدر ہچرایپّا نے بھی شرکت کی۔صدر جلسہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یوم مہاتماگاندھی کے موقع سے اس مجلس کا انعقاد صرف گاندھی جی کو یاد کرنے کیلئےبرپا نہیں کی گئی ہے۔ کیوں کہ گاندھی جی صرف ایک شخصیت کا نام نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک آئیڈیالوجی، ایک فلسفۂ حیات اور ایک بامعنیٰ و با مقصد زندگی گذارنے کے طریقے کا نام ہے۔ ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم گاندھی جی کے سپنوں کو ساکارکریں۔ ان کے خوابوں کو تعبیروں سے ہمکنار کریں اور انسان سے انسانیت کی سطح پر رشتہ بنائیں۔ اس میں ذات، پات، رنگ، نسل، اور مذہب کی تنگ نظری نہ ملائیں۔ ہم جس دن مہاتماگاندھی کے اصولوں پر عمل کرنا شروع کردینگےملکِ عزیز بھارت پارس بن جائیگا۔ ایسا پارس جسے چھونے بھر سے ہی دوسرے لوگ سونا بن جائینگے۔ ہمیں گاندھی جی کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے تو ان کے اصولوں کو اپنانا ہوگا۔ اور انہیں دلوں میں بسانے کے ساتھ عملی زندگی میں اپناناہوگا۔مرگاشری مٹھ چترادرگہ سے تعلق رکھنے والے سوامی مہاپربھوبسواپربھو نے گاندھی جی کی سادہ اور بے ریازندگی کے کئی واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں گاندھی جی کو سچے دل سے یاد کرکے ان کے اصولوں کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گاندھی جی کے انسانیت نوازاصولوں کو زندہ رکھنے والی ایک شخصیت ہمارے درمیان موجود ہے۔ جو ہمارے لیے امید افزابات ہے۔ ان کے کاموں، کارناموں، آپسی اتحاد، بھائی چارے، تعلیمی اور سماجی اور رفاہی کاموں کے پیش نظر ہمارے مٹھ نے انہیں سمّانت کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ ہم سب کے لیے خوشی کی بات ہے۔ مجھے امید ہے کہ گاندھی جی کے سپنوں کی جھلک ہمیشہ ہمیںڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی جیسے لوگوں میں دیکھنے کو ملتی رہے گی۔ یہ جلسہ حسب روایت گلشن زبیدہ کے ایک ہونہار طالب علم مطیع الرحمن کی تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا۔ مہمانان گرامی اور صدر مجلس نے مل کر پودے کی سینچائی سے جلسے کا افتتاح کیا۔ حاضرین نے مقررین کو سننے میں اپنی بھرپور موجودگی کا احساس دلایا۔ گلشن زبیدہ کے طلباء، اساتذہ، دوسرے ذمہ دار، اور ملازین اور شہر کے عمائدین کا ذوق و شوق قابل دید تھا۔استقبالیہ تقریر کنڑا زبان میں جونیر کالج کے کنڑا کے استاد راگھونے کی، غرض وغایت ہچرایپّا نے پیش کی۔ نظامت کے فرائض نذراللہ مڈی نے اداکیے۔ اور انہیں کے شکریہ کے ساتھ جلسہ کا اختتام ہوا۔