انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ریاست کا مقام ملکی سطح پر اولین ہے: وزیر تعلیم اشوت نارائن

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر

شیموگہ: (انقلاب نیوزبیورو):۔سائنس اور ٹیکنالوجی کے ایجادات کی بھارت اور کرناٹک میں زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اس بات کا اظہار وزیر برائے اعلیٰ تعلیم ڈاکٹراشوت نارائن نے کیا ہے۔انہوں نے آج شہر کےویر بھدریشورا سنیما تھیٹر میں ضلع بی جے پی کی خدمات مہم کے زیر اہتمام نوا بھارت میلہ میں”بھارت میں سائنس اور ٹیکنالوجی” کے مسئلہ پر سیمینار میں حصہ لیتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا میں بھرکی انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بھارت سب سے آگے ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی ، بائیوٹیک ٹیکنالوجی ، بائیو میڈیکل ٹیکنالوجی ، ایروٹیک ٹیکنالوجی سمیت تمام طرح کی ٹیکنالوجی میںبھارت دنیا کا معروف ملک بن چکا ہے ۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ریاستی حکومت ملکی سطح پر سرفہرست میں شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کی جی ڈی پی کا 250 ملین ڈالر ٹیکنالوجی کے شعبے سے آتا ہے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سے جڑے تجربات کومرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے فروغ دیا جا رہا ہے۔مستقبل میں تمام شعبوں میں عوام تک پہنچانے کیلئے حکومت اقدامات اٹھارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسرچ اسٹوڈینٹس کیلئے ہر ماہ 20 ہزار روپئے اسکالرشپ دی جاتی ہے ۔ سینئراور جونیئر سائنسدانوں کیلئے خصوصی معاوضہ دیتے ہوئے حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی پہلے ہی شائع ہو چکی ہےجس کے ذریعہ نرسری سطح سے ہی بچے میں تحقیقی دلچسپی پیدا کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اپنے پیشے کے ذریعہ معاشرے کیلئے کوئی نہ کوئی تحفہ ملنا چاہئے۔ اس مقصد کیلئے حکومت نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی ایجاد کیلئے خصوصی منصوبے نافذ کیے جارہے ہیں۔ اس موقع پر بی جے پی یوتھ مورچہ کے ریاستی ورکنگ ممبرانوپ کمار ، محمد شفیع اللہ، گریش، ہری کرشنا وغیرہ موجودتھے۔