وسیم رضوی کی متنازعہ کتاب پر پابندی لگائیں: سید محمدتنویرہاشمی

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بیجاپور:۔مسلم متحدہ کونسل(ایم ایم سی) بیجاپور کی جانب سے وسیم رضوی کی متنازعہ کتاب پرپابندی عائد کرنے اورتریپورہ میں مسلمانوں کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے مولانا سیدمحمدتنویر ہاشمی صدر جماعت اہل سنت کرناٹکا کی قیادت میں ایک میمورنڈم بیجاپور ڈپٹی کمشنر کو پیش کیاگیا۔ ڈپٹی کمشنر کے حوالے سے صدر جمہوریہ کو پیش کیے گئے میمورنڈم میں واضح طورپر بتایا گیا ہے کہ اتر پردیش شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیرمین وسیم رضوی نے ایک بار پھر حضورﷺ کے نام پر ایک کتاب لکھ کر نیا تنازعہ کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے اورنرسنگھ آنند کے ساتھ ایک انٹرویو میں دین اسلام ، حضورﷺ اور دین اسلام کے اصولوں کی غلط بیانی کرکے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ وسیم رضوی اس سے پہلے بھی قرآنی آیات میں ترمیم کی بات کرکے مسلم دشمن ثابت ہوئے ہیں۔ ایم ایم سی نے مطالبہ کیا ہے کہ رضوی کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور اسے سخت سزا دی جائے۔ اسی طرح ایم ایم سی نے تریپورہ میں مسلمانوں کے خلاف ظلم وستم کو ایک منصوبہ بند سازش قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت کو چاہئے کہ املاک کے نقصانات کا معقول معاوضہ دے اور جن کی دوکانیں یا مکان توڑ پھوڑدیئے گئے ہیں یاجلائے گئے ہیں انہیںمناسب معاوضہ دیاجائے۔اسی طرح فساد سے متاثرہ مساجد کی مکمل مرمت کرائی جائے۔ میمورنڈ میں یہ مطالبہ بھی کیاگیا ہے کہ فرائض کے انجام دہی میں کوتاہی کرنے والے پولیس حکام اور تشدد کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ علاوہ ازیں میمورنڈم میں واضح طورپر یہ بات کہی گئی ہے کہ ہمیں ملک کے تمام طبقات کے درمیان فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے کوشاں رہنے کی ضرورت ہے۔ نفرت کے ماحول کو مٹانے کے ساتھ ساتھ دستور ہند کی جڑوں کو مضبوط کرنے کے لیے کمربستہ ہوکر فسطائی طاقتوں کو کمزور کرنے کے علاوہ وسیم رضوی جیسے فرقہ پرست شرپسندوں کو سلاخوں کے پیچھے بھیجناچاہئے۔ ایم ایم سی کے اس وفد میں مولانا محبوب الرحمن عمری، عبدالحمید مشرف، محمدرفیق ٹپال، مولانا محمدیوسف قاضی، اکرم ماشالکر، بشیر الزماں لاہوری، فیاض کلادگی کے علاوہ دیگر مقامی سیاسی و مذہبی رہنما موجود تھے۔اخیرمیں مولانا سیدمحمدتنویر ہاشمی نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ علماء کرام، ائمہ مساجد، ذمہ داران مدارس ، وکلاء ، سماجی کارکنان قانون کے دائرے میںرہتے ہوئے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں اور ہرممکن قانونی چارہ جوئی کریں۔