کوٹیم(نیوز ایجنسی):۔ کیرالا میں کیتھولک بشپ(پادری) کے لو اور نشہ آور جہاد کے بیان پر ریاست میں ہنگامہ برپا ہے۔ کئی مسلم تنظیموں نے کیتھولک بشپ کے بیان پر تنقید کی ہے۔ اب ریاست کے وزیر اعلیٰ پنرائی وجین نے اس معاملے میں اپنا پہلا رد عمل دیا ہے۔ وجین نے کہا ہے کہ وہ پہلی بار نشہ آور جیسے الفاظ سن رہے ہیں۔ منشیات جیسا خطرہ صرف ایک کمیونٹی تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ہر معاشرے کا مسئلہ ہے، ہمیں اس کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔کیتھولک بشپ نے یہ کہہ کر تنازع کھڑا کر دیا ہے کہ ریاست میں عیسائی لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد’لو جہاد اور نشہ آور جہاد‘ کے جال میں پھنس رہی ہے اور انتہا پسند دوسرے مذاہب کی نوجوان خواتین کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں ہتھیار استعمال نہیں کئے جا سکتے، یہ حربے اپنارہے ہیں۔بشپ نے الزام لگایا کہ غیر مسلم لڑکیوں خصوصامسیحی برادری کی لڑکیوں کو لو جہاد کے تحت تبدیل مذہب اور استحصال کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں دہشت گردی جیسی تخریبی سرگرمیوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
