بنگلورو:۔ساہتیہ اکادمی دہلی نے ۲۰۲۰ ء کے لئے ادب اطفال کے ادبا اور شعراء کو بال ساہتیہ پرسکار سے نوازنے کیلئے ۱۴ نومبر۲۰۲۱ کو بھوبنیشور میں ایک شاندار اعزازی جلسے کا انعقاد کیا ۔ جس میں ہندوستان کی ۲۴ زبانوں میں ادب اطفال میں کارہائے نمایاں انجام دینے والے قلمکاروں کو اعزازات سے نوازا ۔ اس بار اردو ادب اطفال سے ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کا انتخاب کیا گیا اور انہیں ساہتیہ اکادمی کے با وقار بال ساہتیہ پرسکار سے نوازا گیا۔ساہتیہ اکادمی کے اس دو روزہ پروگرام کے اختتام کے بعد منگل 16 نومبر 2021کو جب ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی بنگلور ایرپورٹ پہنچے تو ایر پورٹ کے باہر الامین ایجوکیشنل سوسائیٹی کی طرف سے شہر کے عمائدین کے ساتھ ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ استقبال کرنے والوں میں الامین ایجوکیشنل سوسائیٹی کے جنرل سکریٹری الامین رتنا ڈاکٹر سبحان شریف اور الامین ایجوکیشنل سوسائیٹی کے رکن سید احمد،ڈاکٹر یوسف اسلم ، ایچ کے فائونڈیشن کے صدر فیاض اور فوٹو گرافر ظہیر انصرکے علاوہ بہت سے معززین شامل تھے ۔ان تمام حضرات نے ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کو بچوں کے ادب کے لئے ساہتیہ اکادمی کی طرف سے دئے جانے والے ایوارڈپر دلی مبارکبادیاں پیش کیں۔ان کا منہ میٹھا کیا ۔اور ان کی گل پوشی کرکے اپنی خوشیوں اور مسرتوں کا اظہار کیا۔اس موقع سے گفتگو کرتے ہوئے الامین رتنا ڈاکٹر سبحان شریف صاحب نے کہا کہ آج ہم سبھی بہت خوش ہیں یہ ایوارڈ صرف حافظؔ کرناٹکی صاحب کا ہی اعزاز نہیں ہے۔ سچ پوچھئے تو یہ الامین کیلئے بھی بڑا اعزاز ہے ۔ ہمارے لئے یہ بڑا اعزاز ہے کہ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی جیسے معزز شاعر و ادیب کے ساتھ ہم کام کرتے ہیں ۔ وہ ہمارے ادارے الامین ایجوکیشنل سوسائیٹی کے وائس چیرمین ہیں ۔ اس لئے ہم ان پر جتنا فخر کریں کم ہے۔ انہوں نے نہایت یکسوئی اور لگن سے تصنیف و تالیف کا کام کیا ہے۔ اور سو کتابوں کے مصنف بن گئے ہیں۔ یوسف اسلم نے کہا کہ یہ بڑامبارک وقت ہے کہ حافظؔ کرناٹکی صاحب ہندوستان کی چوبیس زبانوں کے مصنفین کے درمیان اردو کے نمائندہ ادیب بن کر ابھرے ہیں اور بچوں کے ادب کے اعزاز سے سرفراز کئے گئے ہیں ۔ سید احمد نے کہا کہ یہ ایوارڈ صرف حافظؔ کرناٹکی کے لئے نہیں ہے یہ ایوارڈ بشمول الامین کے پوری اردو دنیا کے لئے ہے ۔ انہوں نے اردو ادبِ اطفال کو سربلندی بخشی ہے ۔ اس لئے ہم اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہیں ۔ صاحبِ اعزاز ڈاکٹرحافظؔ کرناٹکی نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کوئی اندازہ نہیں تھا کہ بنگلور ائرپورٹ پر میرا اس شاندار طریقے سے استقبال کیا جائے گا۔ میں اپنے محسنوں ، بزرگوں ، دوستوں اور اردو سے محبت کرنے والوں کی محبتیں دیکھ کر حیران ہوں ۔ دراصل یہ اردو زبان سے محبت کا اظہار ہے ۔ کیونکہ حافظؔ کرناٹکی اردو زبا ن کا خادم اور اردو ادبِ اطفال کا قلم کار ہے ۔ یہی میرا سرمایہ ہے ۔ پچھلے د س سالوں سے بچوں کے ادب کے لئے ساہتیہ ا کادمی دہلی بچوں کے ادیبوں کو اعزاز سے نوازتی آرہی ہے میری خواہش تھی کہ یہ ایوارڈ میں کرناٹک میں لا سکوں ۔ اللہ کا کرم ہے کہ انہوں نے میری اس آرزو کو شرفِ قبولیت سے ہمکنار کیا ۔ آپ تمام حافظ نوازوں اور اردو زبان سے محبت کرنے والوں کا بہت بہت شکریہ۔
