شیموگہ:۔مرکزی حکومت کے ذریعہ بنائے گئے کسان مخالف 3 زرعی قوانین کے خلاف مسلسل احتجاج وستیہ گرہ کی تحریک کاآغاز ہوئے ایک سال مکمل ہوچکا ہے۔کسانوں کی اس تحریک کی حمایت اورحکومت کے کسانوں مخالف 3زرعی قوانین کی مذمت میں 26 نومبرکو ملکی سطح پر تحریکی دن منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ اعلان آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کسان یونین کے رہنماکے ٹی گنگادھر نے کیا ہے۔ جمہوری نظام کے تحت چلنے والی حکومت نے کسان دشمن اور عوام دشمن قوانین نافذ کر کے کسانوں کے حق کی جدوجہد کو نظراندازکررہی ہے۔ جبکہ پورا ملک مشکلات کا شکار ہے۔ مرکزی حکومت شروع سے ہی اپنے بنائے ہوئے عوام مخالف قوانین کو عوام پر زبردستی تھوپنے کیلئے کئی طرح کے حربے استعمال کرتی آئی ہے۔ حکومت کا منشا شروع سے ہی کسانوں کی تحریک کو روکنا تھا ۔ اسی لئے ستیہ گرہ سے بچنے کیلئے تحریک کی جگہ کے ارد گرد بڑی بڑی خندقیں کھودی گئیں ہیں اور آرمی کے ذریعہ جہد کاروں پر پتھراؤ کیا گیا۔ پرامن طریقے سے چلنے والی یوم جمہوریہ پر ٹرایکٹر ریالی میں فساد مچا کر اسکے مقصد کوختم کر دیا گیا اور اسطرح کسانوں کو غدار قرار دیا گیا۔ اتنا ہی نہیں پولیس نے کسانوں پر لاڑھیاں برسائیں، واٹر کینن کا حملہ کیا، مارا پیٹا، غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا۔اتناہی نہیں بی جے پی حکومت کے سربراہوں کے بچوں نے ستیہ گرہ پر بیٹھے مظاہرین پر بے رحمی سے کار چلاتے ہوئے قتل کرنے کا کارنامہ انجام دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ان تمام اقدامات پر سپریم کورٹ نے بھی شدید مذمت کی ہے اس کے باوجود بھی حکومت محتاط نہیں ہوئی اسطرح بی جے پی حکومت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہ ایک غیر آئینی حکومت چلارہی ہے جو عوام کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسان تحریک کوروکنے کیلئے حکومت کی تمام کوششوں کو پر امن اور صبر کے ساتھ ناکام بنا دیا گیا ہےاوراسطرح کسان ایک سال سے انصاف اور سچائی کی راہ پر گامزن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بتاریخ 26نومبر کے روز شہر کے ایم آر ایس سرکل سے دوپہر سے شام 4 بجے تک ضلع کے تمام کسان، اورانکے مویشی، ٹریکٹر، ٹیلر، دیگر مواد کے ساتھ تحریک میں حصہ لیا جائیگا۔ حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو جھنجھوڑا جائیگا۔ انہوںنے مزید بتایا کہ ریاست کے تمام اضلاع، تعلقہ مراکز ، قومی اور ریاستی سرحدوں، پر بھی کسان اپنے جانوروں ، ٹرایکٹر دیگر اوزاروں کے ساتھ احتجاج کئے جانے کی اطلاع دی ہے۔ پریس کانفرنس میں جی آر سنارنگپا، جگدیش نائک، سمیت دیگر موجودتھے۔
