کوویڈ کی دوسری لہر :حالات روزبروزہورہے ہیں خراب، مان نہ مان کورونا کو پہچان

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں

شیموگہ: ملک بھر میں جہاں کورونا کی دوسری لہر تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے وہیں کوروناکو اب بھی ہندومسلم میں بانٹنے لگے ہیں لوگ، ایک طرف کمبھ کے میلے ،مندر اوردیوی دیوتائوں کے دیدار کو لیکر مسلمان ہندوئوں کو مورد الزام ٹھہرارہے ہیں تو دوسری طرف مسلمانوں نے بھی احتیاط نہ برتنے کی قسم کھارکھی ہے۔ بنگلور و، بیدر، میسور، مہاراشٹر، گجرات، دہلی، یوپی اور آندھراپردیش میں کورونا سے متاثرہونے والے لوگوں کی شرح اموات میں اس قد ر اضافہ ہورہاہے کہ مرنے والوں کی تدفین کیلئے نہ قبرستانوں میں جگہ مل رہی ہے نہ ہی شمشانوں میں جلانے کیلئے لکڑیاں میسر ہیں۔ حالت اس قد ربدتر ہوچکے ہیں کہ دہلی کے شمشان گھاٹ میں مردوں کو جلاتے جلاتے لوہے کاچولہاپگلنے لگاتھا، یوپی میں لاشوں کو جلانے کیلئے لکڑیاں دستیا ب نہ ہونے کی وجہ سے اجتماعی طور پر لاشیں جلائی گئیں۔ وہیں بنگلور و میں تدفین کیلئے درجنوں ایمبولینس میتوں کو لیکرقطارمیں کھڑے ہوئے ہیں۔ ان تمام واقعات کو پیش کرتے ہوئے عام لوگوں کو ڈرانانہیںبلکہ محتاط کرنا ہے، دیکھا جارہا ہے کہ ہرطرف کھلے عام لوگوں کی آمدورفت ہورہی ہےاوروہ نہ تو سوشیل ڈسٹینس کا اہتمام کررہے ہیں نہ ہی ماسک لگاکر باہر جارہے ہیں۔مسجدوں میں 60 سال سے زائد عمر کے لوگوں کو آنے سے منع کیا جارہا ہےلیکن کوئی اسکی پرواہ نہیں کررہا ہے۔ لیکن وہ حدیثیںجن میں تیز بارش،یاآندھی میں مسجد کو نہ جانے کی جو تجویز دی گئی تھی ، اسے کوئی یاد نہیں کررہا ہے۔ وباءکے ایام میں ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت نہ کرنا، ایک دوسرے سے مصافحہ نہ کرنا ، چہرہ ڈھکنے کی حدیثوں پر بھی عمل کرنا کسی کو یادنہیں ہے۔ پچھلے سال انہیں ایام میں شیموگہ سمیت کئی علاقوں میں لاشوں کا اٹھنا عام بات ہوگئی تھی، اس وقت بھی کئی لوگوںنےکورونا کوسازش کہا، توکچھ لوگوں نے اسے تعصب کی وباء کہا، لیکن کورونا کیا چیز ہے یہ بات وہی لوگ جانتے ہیں جن کے گھروں سے لاشیں اٹھیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ کورونا بیماری سے چیلنج کرنے کے بجائےلوگ حکومت سے چیلنج کرتے ہوئے خود بلی کا بکرا بن رہے ہیں۔