شکاری پور:۔دیارحافظ شکاری پور میںہریکلا ہاجبّا کی آمد کے موقع سے ایک بزم منعقد کی گئی۔یاد رہے کہ ریاست کرناٹک کے منگلور شہر کے دیہی علاقے کے رہنے والے نہایت سادہ، محنتی اور تعلیم و تدریس سے محبت رکھنے والے پاک طبیعت انسان ہریکلا ہاجبّا آج کل سبھوں کی توجہ، محبت اور عقیدت کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ۲۰۲۰ء کیلئےپدم شری کا پروقار اعزاز صدر ہند کے ہاتھوں دیا گیا ۔ ہریکلا ہاجبّا کے رنگ روپ اور وضع قطع کو دیکھ کر کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ہے کہ یہ پدم شری اعزاز یافتہ ہیں۔ ان کی سادگی ان کی طاقت اور ان کی پہچان ہے۔ڈاکٹر حافظ کرناٹکی کو۲۰۲۰ء کیلئے بال ساہتیہ پرسکار دیا گیا ہے جس کی مبارکباد دینے کیلئے ہریکلا ہاجبّا شکاری پور تشریف لائےجس کا ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے نہایت پرتپاک انداز میں ان کا خیر مقدم کیااورپدم شری یافتہ ہریکلا ہاجبّا کا اعزاز کیا۔ اس موقع پر مدنی بینک کے رکن حنیف ، کنڑا صحافتی کمیٹی کے ضلعی صدر ہچرایپّا ، گلشن زبیدہ کے نائب سرپرست انیس الرّحمن ، سوپروائزر انجینئر محمد شعیب ، محمد ناصر ، محمد فاروق ، محمد رفیق ، محمد نعمان اور محمد اشرف کے علاوہ بھی کئی افراد موجود تھے۔ہریکلا ہاجبّا نے کہا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کو ۲۰۲۰ء کے لیے اردو ادب اطفال کا باوقار ساہتیہ ایوارڈ ملا ہے تو میں اپنے آپ کو روک نہیں سکا اور آپ کو مبارکباد دینے کیلئےحاضر ہوگیا۔ہاجبّا نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں ایک معمولی انسان ہوں، نارنگی بیچتا ہوں، لوگ مجھے نارنگی والاکہتے ہیں۔ میں نے اپنی معمولی سی آمدنی میں ہمت کی کہ بچوں اور بچیوں کی تعلیم کیلئے ایک اسکول قائم کروں لہٰذا میں نے بھگوان کا نام لے کر اپنا کام شروع کردیا۔ لوگوں نے میرے جذبے کو سمجھا اور مجھے اپنی محبتوں سے نوازا۔ مزید انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی تعلیم یافتہ اور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے آپ کو مبارکباد دینا اور آپ سے ملاقات کرنا میرے لیے سعادت کی بات ہے۔اس موقع پر ڈاکٹر حافظ کرناٹکی نے ہاجبّا کی محنتوں اور کام کرنے کے جذبے کو سراہااور کہاکہ کیا کوئی اندازہ کرسکتا ہے کہ ایک شکن آلودہ مالیدہ شرٹ پہنا ہوا اور سفیدی کی چمک سے محروم لنگی میں ملبوس یہ عظیم انسان عزم و ارادے کی چلتی پھرتی مثال ہے۔ہریکلا ہاجبّانے تعلیم کو گھر گھر پہونچانا ہے جیسے مشن کو طاقت بخشی۔ سچ ہے کہ انسان بڑی بڑی ڈگریوں سے نہیں اپنے اچھے اخلاق، اعمال اور خدمت کرنے کے سچے جذبے سے بڑا اور عظیم بنتا ہے۔ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے کہا کہ اسے حکومت کی کامیابی میں شمار کیا جائیگا کہ اس نے کام کے لوگوں کو تلاش کرکے پدم شری جیسے معزز ایوارڈ سے سرفراز کیا ہے۔ ہاریکلا ہاجبّا کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ لوگ انہیں نام سے پکارنے کے بجائے احتراماً اکشراسنتا کے نام سے پکارتے ہیں۔ ایسی شخصیت کا مجھے مبارکباد دینے کے لیے یہاں تک آنا میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔ یہ مختصر نشست انیس الرّحمن کے شکریہ کے ساتھ اختتام کو پہونچی۔
