دہلی:۔ مرکزی حکومت نے بین الاقوامی مسافروں کے لیے نئے اصول جاری کیے ہیں۔ یہ نئی ٹریول ایڈوائزری آج سے نافذہوگی۔ ان کا اعلان ’اومیکرون‘ کے پیش نظر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ صحت عامہ کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے بعد کیا گیا۔ اس کے تحت ان ممالک سے آنے والے مسافروں کا کووڈ کے لیے ٹیسٹ کیا جائے گا اور اگر منفی پایا جاتا ہے تو انہیں سات دن کے لیے ہوم قرنطینہ کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس ایڈوائزری میں مزید نئے اصول بھی شامل کیے گئے ہیں۔ (۱)خطرناک ممالک کے مسافروں کی آمد پر کووڈ کے لیے ٹیسٹ کیا جائے گا اور جب تک ان کے آرٹی۔ پی سی آر ٹیسٹ کے نتائج دستیاب نہیں ہو جاتے وہ ہوائی اڈے سے باہرنہیں نکل سکتے۔ اگران کی رپورٹ نگیٹیو پائی ہے تو انہیں سات دن کے ہوم قرنطینہ سے گزرنا پڑے گا اور آٹھویں دن دوبارہ ٹیسٹ کیا جائے گا۔ مؤثر ہوم قرنطینہ کو یقینی بنانے کے لیے ریاستی اہلکار خود ان کے گھروں کا دورہ کریں گے ۔(۲)اگر کورونا پوزیٹیوپایا جاتا ہے تو مسافروں کو آئیسولیٹ کرکے ان کا علاج کیا جائے گا، اور ان کے نمونے فوری طور پر INSACOGلیبز نیٹ ورک کو بھیجے جائیں گے۔ یہ ایک ملٹی لیبارٹری، ملٹی ایجنسی، آل انڈیا نیٹ ورک ہے جسے حکومت نے SARS-CoV-2میں جینومک ویریئنٹس کی نگرانی کے لیے ترتیب دیا ہے تاکہ اس کے ذریعے وائرس کے تناؤ کا پتہ لگایا جا سکے۔ اس کے بعد ریاستیں ان پوزیٹیوافراد کے رابطوں کا پتہ لگائیں گی اور 14 دن تک انہیں فالو کریںگے۔ (۳)خطرناک ممالک کے مسافروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے نتائج آنے تک ہوائی اڈوں پر انتظار کرنے کے لیے تیار رہیں۔ خطرناک ممالک کی فہرست میں برطانیہ، یورپ کے تمام 44 ممالک، جنوبی افریقہ، برازیل، بنگلہ دیش، بوتسوانا، چین، ماریشس، نیوزی لینڈ، زمبابوے، سنگاپور، ہانگ کانگ اور اسرائیل شامل ہیں۔(۴)ریاستوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مختلف ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور زمینی سرحدوں سے ریاست میں آنے والے بین الاقوامی مسافروں پر سخت نظر رکھیں۔ٹیسٹ، ٹریک، ٹریٹ، ویکسینیٹ حکمت عملی پر دوبارہ زور دیا گیا ہے۔ ریاستوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ جانچ میں تیزی لائیں ۔(۵)مرکز نے ان علاقوں کی مسلسل نگرانی کرنے کا بھی مشورہ دیا ہے جہاں حال ہی میں مثبت کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ تمام مثبت نمونے فوری طور پر INSACOG نیٹ ورک کو بھیجنے کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔
