بنگلور:۔کرناٹک کے ادب اطفال کے شاعر کو حکومت ہند کی جانب سے ایوارڈ ملنا یقیناقابل فخر ہے ۔یہ ایوارڈکرناٹک کے تمام ادباء، شعراء کے لئے تصور کیا جاسکتا ہے۔کیونکہ شمالی ہندوستان میں یہ تصور عام ہے کہ جنوب میں بہتر شاعری نہیں ہے ۔یہ غلط تصور مٹانے کی اس وقت ضرورت ہے ۔اس کے لئے ہمیں یونیورسٹیوں سے جڑنے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ جن دو یونیورسٹیوں نے میرے ایوارڈ کے لئے سفارش کی ہے وہ ہیں دہلی یونیورسٹی اور علی گڑھ یونیورسٹی۔ ان خیالات کا اظہار شہر کے زم زم شادی محل میں کرناٹکا اردو پوئٹس اسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ جلسہ تہنیت سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر حافظ کرناٹکی نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بال ساہتیہ پرسکار کسی کی سفارش پر نہیں دیا جاتا بلکہ اس کی پوری چھان بین ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جنوب کے شعراء کسی سے کم نہیں ہیں۔ہمارے بزرگ شعراء کو ہم نے خود فراموش کررکھا ہے ۔اگر ان پر پی ایچ ڈی کی جائے تو آنے والی نسلوں کو ان کی شاعری سے روشناس کرایا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ اللہ کا احسان ہے کہ میری تقریباً 5کتابیںپاکستان سے شائع ہونے والی ہیں ۔انہوں نے بے حد مسرت کا اظہار کیا کہ کرناٹک اردو پوئٹس اسوسی ایشن کے معتمد و سابق چیرمین کرناٹکا اردو اکادمی مبین منور نے جلسہ تہنیت کا انعقاد کیا اور ایک فنکار کی عزت بڑھائی۔ انہوں نے کہا کہ اکادمی کے چیرمین کی حیثیت سے مبین منور نے شاندار کارنامے انجام دئے ہیں ۔جہاں صرف 4لوگوں کو ایوارڈ دیا جانا چاہئے تھا وہاں انہوں نے تقریباً 32لوگوں کو ایوارڈ سے نوازا ہے ۔یہ مبین منور کا ناقابل فراموش کارنامہ ہے۔انہوں نے کہاکہ مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں بھی جنوبی ہندوستان کے شعراء کا انتخاب کیا جائیگا اورانہیں عزت و تہنیت سے نوازا جائیگا۔صدر جلسہ محمد عبیداللہ شریف نے کہا کہ حافظ کرناٹکی کی تصانیف 100 سے زیادہ ہوچکی ہیں ۔ہمیں اس کا اندازہ ہی نہیں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک کے کچھ شعراء نے 50 سے زیادہ کتابیں لکھی ہیں لیکن ان سب کو یہ ایوارڈ نہیں ملا۔بال ساہتیہ ایوارڈ دینے سے قبل شاعر کی پوری چھان بین کی جاتی ہے ۔کسی کی سفارش نہیں لی جاتی۔ یہاں تک کہ ایوارڈ پروگرام میں اس ریاست کے وزیراعلیٰ کو تک مدعو نہیں کیا جاتا ۔ انہوں نے کہا کہ حافظ صاحب کو اس ایوارڈ کے لئے دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ آپ نے کرناٹک کا نام روشن کیا۔ کرناٹک کے شعراء اور ادباء کو پورے ملک میں باوقار بنادیا۔استقبالیہ پیش کرتے ہوئے مبین منور نے کہا کہ حافظ کرناٹکی کی شخصیت سارے ہندوستان کے لئے محتاج تعارف نہیں۔آپ نے اکادمی میں رہتے ہوئے ہو یا دیگر وقت میں اپنی ادبی تخلیقات کو ہمیشہ جاری رکھا۔ ڈاکٹر حافظ کرناٹکی کی ادبی خدمات کا احاطہ کرنے میں بہت وقت نکل جائیگا۔تہنیتی اجلاس سے منیراحمد جامی اورملی کونسل کے سلیمان خان نے بھی خطاب کیا۔تہنیتی اجلاس کا آغازحافظ کے ایم حبیب ، زم زم شادی محل کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔نیاز الدین نیاز نے نعت کا نذرانہ پیش کیا۔ صدیق پاشاہ جوائنٹ سکریٹری ٹو گورنمنٹ کامرس اینڈ انڈسٹریز ڈپارٹمنٹ وکاس سودا، بنگلور، محمد عرفان، اڈیشنل ڈائرکٹر، انڈسٹریز اینڈ کامرس ڈپارٹمنٹ ، عباس شریف، سابق چیرمین کرناٹک اردو اکادمی ، ایوب احمد خان، اڈووکیٹ ،حافظ کے یم حبیب اللہ، زم زم شادی محل اور سید اشرف، سرامہمانان خصوصی رہے ۔شفیق عابدی نے نظامت کے فرائض انجام دئے ۔ کرناٹکااردو پوئٹس اسوسی ایشن کی جانب سے ڈاکٹر حافظ کرناٹکی کو تہنیت پیش کی گئی۔ منیراحمد جامی نے منظوم سپاس نامہ پیش کیا۔بزمِ امیدِ فردا بنگلورکے سید عرفان اللہ قادری،کائناتِ ادب بنگلور کے صدر عنایت اللہ خان،بزمِ فانوسِ اردو ادب،بزمِ کاروانِ اردو، بزمِ غالب ،کرناٹکا اردو ساہتیہ پریشد، گڈی بندا، امتی چینل، ہیلی،کرناٹکا راجیہ اردو ٹیچرز ایسوسی ایشن، کرناٹک ،بزمِ مصطفی، لسانیاتِ ہند ٹرسٹ رجسٹرڈ ،حافظ سید تبریز مع دوست،اے آر خمینی یاسین و دیگرتقریباً 35ادبی انجمنوں نے حافظ کرناٹکی کوتہنیت پیش کی۔ مبین منور کے ہدیہ تشکر پر جلسہ اختتام کو پہنچا۔
