شیموگہ :شہر میں آج ایس ڈی پی آئی کی جانب سےبابری مسجد کی شہادت کو یاد کرتے ہوئے بابری مسجد کو سرازنوتعمیر کرنے کا مطالبہ کیا گیا اوربھارت کی تاریخ میں بابری مسجد کی شہادت کو تاریخ کا یوم سیاہ قراردیا گیا۔ آج ایس ڈی پی آئی کے کارکنوں نے شہر کے ڈپٹی کمشنر دفتر کے بالمقابل اپنے کارکنوں کے ساتھ احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی تاریخ کا یہ دن یوم سیاہ ہے، سپریم کورٹ نے اپنے 1045 صفحات کے فیصلے میں کہیں بھی یہ نہیں کہا ہے کہ بابری مسجد کی تعمیر مندرکو توڑ کر کی گئی تھی ۔محکمہ آثار قدیمہ نے بھی اس جگہ پرکسی مندر کی باقیات کی نشاندہی نہیں کی ہے۔ واضح رہے کہ وہاں 1949 تک نماز ادا کی جاتی تھی۔ 1949 دسمبرکی 23 تاریخ کو مسجد کے اندر غیر قانونی طور پر مورتی لگائی گئی جو کہ سراسر غلط تھااورمسجد کو شہید کرناایک مجرمانہ عمل ہے۔سن 1947 کے بعد دستور ہند نے کسی بھی مذہبی مقام کوتبدیل کرنے، نقصان پہنچانے، حملہ کرنےیا شہید کرنے کا حکم نہیں ہے، مگرباوجود اسکے فرقہ پرست طاقتوں نے بابری مسجد کو شہید کردیا۔ مظاہرین نے مزید کہا کہ سال2018 کے شبری ملے فیصلے کے خلاف احتجاج کئے جانے پر فیصلےکو روک دیا گیاتھا۔بعدازاں ایس سی، ایس ٹی قانون کے خلاف لڑائی میں 11 افراد نے اپنی جانیں گنوا ں دی بعدازاںاس فیصلے کو واپس لے لیاگیا۔ اسی طرح سپریم کورٹ نے دہلی کے تغلق آباد میں روی داس مندر کو منہدم کرنے کا حکم دیا تھا لیکن یہاں بھی ایک وسیع احتجاج کے بعد فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے مندر کو دوبارہ تعمیر کرنے کا حکم دیا گیا۔ اسی طرح یہ واضح ہےکہ بابری مسجد کوشہید کرنا ایک غیر منصفانہ عمل تھا، ایس ڈی پی آئی کےکارکنوں نے اصرار کیاکہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے کا سرازنو جائزہ لے سکتی ہے۔ اس کیلئے دستور میںگنجائش ہے۔ ہم اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ فوری طور پر اس فیصلے کا سرازنوجائزہ لیں اور بابری مسجد کی سرازنو تعمیر کرواتے ہوئے انصاف قائم کریں۔اس احتجاج میں ایس ڈی پی آئی کے کارکنان موجودتھے۔
