ٹیکسٹائل پر جی ایس ٹی بڑھانا غیرمناسب عمل ہے:واسودیو

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:انسان کیلئے سب سے اہم ضرورتوں میں سے ایک کپڑاہوتا ہے اوراس پربھی ٹیکس میں اضافہ کرنا کہاں کا انصاف ہے؟۔ یہ سوال ضلعی کمرشیل اینڈ انڈسٹریل اسوسیشن کے صدر جی آر واسودیو نے کیاہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکسٹائل پر جی ایس ٹی بڑھانا غیرمناسب ہے اس کے خلاف انڈسٹریل اینڈ کمرشیل اسوسیشن اور ٹیکسٹائل تاجران اسوسیشن کی جانب سے پوسٹ کارڈ مہم چلائی جائیگی۔ اس مہم کیلئے عوام کاتعاون بھی ہے۔ یکم جنوری2022 سے مرکزی حکومت ٹیکسٹائل پر 12 فیصد تک جی ایس ٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلے ہی 5 فیصد تک جی ایس ٹی وصول کیا جارہا تھابعدازاں اسے بڑھاکر 7 فیصد کردیا گیا ۔ پہلے ہی ٹیکس کے بوجھ کی وجہ سے ٹیکسٹائل کی کئی دکانیں بندہوچکی ہیںاور جی ایس ٹی سے بچنے کیلئےکئی تاجر کوئی دوسرا راستہ بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومت کا عوام کی ضروری اور روزمرہ کی اشیاء پر ٹیکس بڑھانا درست نہیں۔حکومتیں جی ایس ٹی کو بڑھانا بند کریںبجائے اسکے ٹیکس کی وصولیابی میں اضافہ کریں اس سے ملک کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ٹیکسٹائل مرچنٹس اسوسیشن کے صدر وینکٹیش مورتی نے اس موقع پربات کرتے ہوئے کہا کہ، ٹیکسٹائل پر جی ایس ٹی کے اضافے کی مخالفت میں ملک بھر میں تحریکیں شروع ہو چکی ہیں۔ ہماری تنظیموں کے ذریعہ پوسٹ کارڈ کی تحریک چلائی گئی ہے۔ پہلے ہی شہر کے ٹیکسٹائل مرچنٹس کے ہاتھوں قریب2ہزار کارڈپوسٹ کرتے ہوئے توجہ دلائی گئی
ہے۔ اسی کے ساتھ 5 ہزار سے زائد تاجران اس تحریک میں حصہ لیںگے۔ پریس کانفرنس میں ٹی آر اشوت نارائن شیٹی، سریش، پربھاکر، ہریش ، سنتوش جی ، وجئے کماروغیرہ موجودتھے۔