دہلی:۔ مرکز نے پیر کو پارلیمنٹ کو مطلع کیا کہ 2005-06 سے 2009-10 کے دوران کل 1,48,186 کروڑ روپے کے آئل بانڈز جاری کئے گئے تھے اور ان بانڈز پر 1,38,909 کروڑ روپے کا سود تھا۔ جو حکومت نے 2020-21 تک ادا کر دی ہے۔یہ اطلاع پٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے راجیہ سبھا کو ایک سوال کے تحریری جواب میں دی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے 2013-14 سے 2020-21 تک ان بانڈز پر کل 80,452 کروڑ روپے کی سود کی رقم ادا کی۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2020-21 میں کل 9,990 کروڑ روپے کی سود کی رقم ادا کی گئی تھی اور رواں مالی سال 2021-22 میں سود کی رقم 9,990 کروڑ روپے کی ادائیگی کے لیے واجب الادا ہے۔پوری نے کہا کہ 3,500 کروڑ روپے کے 6 تیل بانڈز میچور ہو گئے اور 2013-14 سے 2019-20 کے دوران ادا کئے گئے۔ آئل بانڈز پر کل ادائیگی کا تخمینہ 3,20,000 کروڑ روپے ہے جس میں 1,48,186 کروڑ روپے کی اصل رقم اور 1,71,000 کروڑ روپے کی سود کی رقم شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سال اپریل اور ستمبر کے درمیان حکومت کو پٹرولیم مصنوعات پر ایکسائز ڈیوٹی کے طور پر 1,70,894 کروڑ روپے ملے جبکہ 2019-20 میں 2,23,057 کروڑ روپے اور 2020-21 میں 3,72,970 کروڑ روپے ملے۔ حکومت کو 2014-15 میں 99,068 کروڑ روپے اور 2015-16 میں 1,78,477 کروڑ روپے ملے۔
