از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
اصلاحِ معاشرہ یہ عنوان مسلمانوں کیلئے نیا نہیں ہے،اس عنوان کےتحت مسلمانوں کے سینکڑوں،جلسے،تقریریں،سمیناراور بحث ومباحثے ہوئے ہیں اور ان مباحثوں کے بعد جو نتیجہ اخذ ہواہے وہ نتائج مسلمانوں کو مسلمان بنانے اور نیم مسلمانوں کو نیم مسلمان ہی رکھنے کے بجائے اور کسی طرح سے کامیاب نہیں ہوئے۔عموماً اصلاحِ معاشرہ کے عنوان سے جو جلسے وخطبے دئیے جاتے ہیں وہ یا تو منبروں کے محراب سےیاپھر جلسہ گاہ کے اسٹیج سے دئیے جاتے ہیں اور ان جلسہ گاہوں اور مسجدکے منبروں تک صرف وہی لوگ پہنچتے ہیں جن میں خوفِ خداہو اورجو اہلِ علم ہوں ،جن کے دلوں میں عشق رسول ہو اور جنہیں حق اور نیکی کی باتیں سننے کا جذبہ ہو۔اس کےعلاوہ وہ لوگ ہرگزبھی جلسے گاہوں تک تشریف نہیں لاتے جو جرم،گناہ اور برائیوں میں ملوث ہوں۔باوجوداس کےوہ مسلمان جو عام مسلمانوں میں دین کی ترغیب دلوانے کے مقصد سے جلسے منعقدکرتے ہیں،جلسوں کیلئے ہزاروں لاکھوں روپئے خرچ کرتےہیں او مقررین کوزادِ راہ کے طورپر اداکرتے ہیں،اُنہیں چاہے کہ وہ اپنےمعاشرے کازمینی سطح پر جائزہ لیں کہ کس طرح سے نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہوچکی ہے،نوجوانوں میں نشہ بازی اور جرائم کی شرح کس طرح سے تیز ہوتی جارہی ہے،کیا کبھی اہلِ علم حضرات اس تعلق سے بیداری لانے کیلئے زمینی سطح پرکام کرنے کیلئے کسی طرح کالائحہ عمل تیارکئے ہوئے ہیں؟،ہر پولیس تھانے کے سامنے جاکر دیکھیں کہ کس طرح سے طلاق ،خلع اور گھریلو معاملات کولیکر مسلم مردوخواتین دن بھر کھڑے ہوتے ہیں،ہر دن سینکڑوں کی تعدادمیں مسلم سماج سے تعلق رکھنے والے لوگ ان تھانوں کے ارد گرد رہتےہیں اور اس کا فائدہ پولیس بھرپور اٹھارہی ہے،چاہے وہ رشوت خوری کا معاملہ ہو یاپھر مسلم خواتین کا استحصال کیا جارہو۔عدالتوں میں دیکھیں کہ طلاق اور خلع کے معاملات کو سلجھانے کیلئے برسوں تک مسلمان عدالتوں کے چکر کاٹتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور ان لوگوں کی اصلاح کرنے کی ذمہ داری کوئی نہیں لیتا۔ہم نے کئی ایسی کمسن بچیوں کو بھی دیکھا ہے جو جھونپڑ پٹیوں میں بسیرہ کرتی ہیں،ان کی مالی حالت اس قدر کمزور ہوتی ہے کہ وہ اپنا اور اپنے بہن بھائیوں کا پیٹ بھرنے کیلئے شادی بیاہ میں برتن صاف کرنے کیلئے نکل پڑتی ہیں اور ان کمسن بچیوں کو وہاں پر بے غیرت لوگ بہلا پھسلا کر جنسی استحصال کا شکار کرتے ہیں۔آج اصلاحِ معاشرہ کی تقریریں چار دیواری میں کرنے کے بجائے اصلاحِ معاشرہ کیلئے کام گلی محلوں میں کرنے کی ضرورت ہے،ملت اسلامیہ جو بے روزگاری اورتعلیمی پسماندگی کاشکارہے،اس میدان میں کام کرنے کی ضرورت ہے،یقیناً آج کئی تنظیمیں اس سمت میں کام کررہی ہیں،لیکن یہ تمام کوششیں اس لئے کمزور ہورہی ہیں کہ اس کام کواجتماعی طو رپر انجام نہیں دیاجارہاہے،ہر کوئی الگ الگ سمت میں جارہاہے۔کسی شاعرنے کیا خوب کہاہے کہ
روٹی نہ پیٹ میں ہو تو پھر کچھ جتن نہ ہو
میلے کی سیر خواہش باغ و چمن نہ ہو
بھوکے غریب دل کے خدا سے لگن نہ ہو
سچ ہے کہا کسی نے کہ بھوکے بھجن نہ ہو
اسی طرح سے ہمارے معاشرے کی اصلاح اسی وقت ممکن ہے کہ لوگوں میں روزی روٹی کا انتظام کیاجائے،اُن کیلئے روزگارکے وسائل پیداکیاجائے،جب اُن کے یہاں جینے کیلئے کچھ آمدنی کا یقین بن جائے تو اصلاحِ معاشرہ کام آسان بن سکتاہے،جب کسی کو جرم کرنے کی حاجت نہیں رہے گی توسماج سے جرائم بھی کم ہونے لگے گیں۔اس وقت مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس جانب تو جہ دیں کہ معاشرے کی اصلاح کیلئے لوگوں کے درمیان جائیں،اُن کی اصلاح کریں،اُن کیلئے آسانیاں پیدا کریں کہ وہ خود کماکرکھائیں،پھر ترغیب دیں کہ انہیں اپنے رب کی طرف کس طرح سے لوٹناہے۔جب ہم اس بنیاد کو ہی ترتیب نہیں دینگے توچھت کو مضبوط نہیں بنا سکتے۔
