بھدراوتی:۔بھدراوتی میں سی یم قادر کا قہر رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور ہر دن کی کری کری سے بھدراوتی کے لوگ تنگ آچکے ہیں۔ دراصل سی یم قادر سابق مرکزی وزیر سی، یم ابراہیم ہی کے بھائی ہیں اور وہ کچھ سال پہلے یہاں کی انجمن اصلاح المسلمین کمیٹی کے صدر رہے، اسکے بعد میعاد ختم ہونے پر جب ان کواستعفیٰ دیکر نئے سرے سے کمیٹی کی تشکیل کیلئے مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا تھا تو انہوں نے ٹال مٹول کرتے ہوئے نئی کمیٹی کی تشکیل کرنے سے انکار کیا تھا ۔ بلآخر مقامی لوگوں نے انجمن کمیٹی کو قانونی طور پر تحلیل کرتے ہوئے ضوابط کے مطابق نئی کمیٹی کی تشکیل دی ہے، اسی بات سے ناراض سی ایم قادر ہردن ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کے ذریعے انجمن اصلاح المسلمین کے ذمہ داروں اور انکی تائید کرنے والوں کو برا بھلا کہتے تھے، اسی طرح کی حرکت میں جب سی یم قادر نے کمیٹی کے سرپرست امیر جان کیلئے گالی گلوچ بکی تو امیر جان نے سی یم قادر کے خلاف معاملہ درج کروایا ہے ۔ سوشیل میڈیا کا غلط استعمال کرنا اور دوسروں پر الزام تراشی کرنا جہاں قادر کیلئے نئی بات نہیں ہے وہیں مقامی لوگ ان ویڈیو اور آڈیو سے تنگ آچکے ہیں اور وہ پولیس سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ پولیس سی ایم قادر کو مناسب سبق سکھائے ۔ اس شکایت کے بعد جب میڈیا میں انکے تعلق سے خبریں شائع ہوئی تو وہ حسب عادت پھر میڈیا پر ہی الزام، تراشی کرنے لگے ۔ اس تعلق سے روزنامہ آج کا انقلاب کے ایڈیٹر کا کہنا ہے کہ ین آر سی کے موقع پر انجمن اصلاح المسلمین کو روزنامہ نے ملی کام سمجھ کر نہ صرف بہترین مقررین کو جلسہ گاہ پہنچایا تھا بلکہ 3ہزار روپے نقد بھی عطیہ کے طورپر سی یم قادر کو پیش کئے تھے جسکی رسید آج تک نہیں ملی ہے، اندازہ لگائیں کہ جب وہ ملّی کاموں کے پیسے ہی ننگل جائیں تو دیگر کاموں میں کیسے ایمانداری نبھائینگے۔ سی یم قادر کی بدعنوانیوں کے سلسلے میں مزید شکایتیں موجود ہوں تو عوام ثبوت کے ساتھ پیش کریں ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اسی قادر نے ضلع میں سب سے پہلے بڑے کے قصائیوں کو لیکر تنازعہ کھڑا کیا تھا اب مسلمان پریشان ہوچکے ہیں ۔ سی،یم قادر کا کہنا ہے کہ وہ قانون سے اس لئے خوف نہیں کھاتے کیونکہ انہیں مقامی ایم ایل اے
سنگمیش کا ہاتھ ان کے سرپرہے اور ان کاکوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا ۔
