بنگلورو:۔کرناٹکا ہائی کورٹ میں آج انسدادگائوکشی قانون 2020 کو منسوخ کرنے کیلئے دائرکردہ پی آئی ایل پر سنوائی ہوئی۔لیکن آج عرضی گذاروں کوعدالت سے راحت نہیں ملی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق سماجی کارکن عارف جمیل،جمعیۃ قریش او ررائیتر سنگھا کی جانب سے دائرکردہ عرضی کی سنوائی کرتے ہوئے جسٹس ریتو راج اوستھی کے سامنے اڈوکیٹ جنرل نے اس بات کی اپیل کی کہ گائوکشی قانو کی شق5 پر جو روک لگائی ہے،اسے مستردکیاجائے۔اس کے بعد اس معاملے کی سنوائی ہو۔مگر جمعیۃ قریش کے وکیل روی ورما کمارنے عدالت کو بتایاکہ اس معاملے میں پہلے ہی تاخیرہوئی ہے،اس وجہ سے مزید تاخیرنہ کی جائے بلکہ حکومت کے موقف کو پیش کرنے کی ہدایت دی جائے،وہیں اڈوکیٹ رحمت اللہ کوتوال نے بھی عدالت کو بتایاکہ کسی بھی حال میں انسداد گائوکشی قانون کی شق5 پر لگے ہوئے اسٹے آرڈر کو منسوخ نہ کیاجائے،جبکہ اڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایاکہ اس تعلق سے تفصیلی بحث کیلئے مزید مہلت دی جائے۔عدالت نے وکلاء کی دلیلوں کو سننے کے بعد شق5 پر لگی ہوئی روک کو مزید بڑھاتے ہوئے اگلی سنوائی فروری 2022 میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ واضح ہوکہ انسدادگائوکشی قانون میں شق5 کے مطابق جانوروں کے لانے لے جانے پرروک لگاناہے،جسے عدالت نے غیر ضروری قراردیتے ہوئے روک لگائی ہے۔
