بنگلورو:۔ملک بھرمیں کانگریس کے نہرو پریواراور جے ڈی ایس کے سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڈاکے تعلق سے ہمیشہ سے ہی منفی رائے پیش ہوتی رہی ہے کہ وہ کنبہ پروری کی سیاست کررہے ہیںا ور اپنے ہی خاندان کے لوگوں کوسیاسی میدان میں آگے لارہے ہیں،لیکن اسی تنقیدکے درمیان بھارت بھرمیں دوسری سیاسی پارٹیاں بھی اپنے بچوں ،بھائیوں ، بہنوں اور بہوئوں کوسیاسی میدان میں لاکر خاندانی سیاست کررہے ہیں۔ہر انتخابات میں موجودہ زیر قیادت سیاسی پارٹیوں کے رشتہ دار دوسروں سے زیادہ ترجیح حاصل کررہے ہیں اور سیاسی پارٹیوں میں اپنا دبدبہ بنائے ہوئے ہیں۔اس کی تازہ مثال حال ہی میں ہونے والے ایم ایل سی انتخابات کے تنائج ہیں جس میں منتخب ہونے والے25 ایم ایل سی میں سے10 ایم ایل سی کے باپ یا بھائی سیاسی عہدیدارہیں یاپھر پارٹیوں میں اونچا مقام رکھتے ہیں ۔ ایم ایل سی جیسے عہدوں کیلئے اپنوں کو ہی موقعےدینا پھر مالداروں کو عہدے دینے سے دیگر کارکنوں کو یہ سوچنے پر مجبور ہوناپڑرہاہے کہ آخرہمیں کس کیلئے سیاست کرنی چاہیے اور ہمارے مقدرمیں کب عہدے حاصل ہونگے؟۔خاندانی سیاست سے بیشتر سیاسی پارٹیوں کے کارکنان ناراض ہوتے جارہے ہیں،کچھ اس تعلق سے کھلے عام بات کررہے ہیں تو کچھ کارکنان دبے الفاظ میں شکایت کررہے ہیں۔ایم ایل سی انتخابات میں ووٹ دینے والے گرام پنچایت اور بلدیاتی اراکین کاکردار اہم رہتاہے،بہتر کام کرنے والے لیڈروں کو ان حلقوں کی قیادت کرنے کاموقع دینے کے بجائے باقاعدہ خاندانی سیاست کو ترجیح دی جارہی ہے۔سابق وزیر اعلیٰ او ربی جے پی لیڈر جگدیش شٹرکےبھائی پردیپ شٹر،کے پی سی سی کے ریاستی صدر ڈی کے شیوکمارکے سالے روی،جے ڈی ایس کے لیڈر ایچ ڈی ریونا کے دوسرے بیٹے سورج ریونا، کانگریس پارٹی کے سابق رکن اسمبلی کے این راجناکے بیٹے کے آر راجیندرا،ودھان پرشید سابق اسپیکر ڈی ایچ شنکر مورتی کے بیٹے ڈی ایس ارون ، مڑکیری کے رکن اسمبلی اپّاچو رنجن کے بھائی سوجا کوشالپا،سابق ہوم منسٹر ایم بی پاٹل کے بھائی سونیل گوڈا پاٹل، بی جے پی لیڈر رمیش جارکیہولی کے بھائی لکھن جارکیہولی،لکشمی ہیبالکر کے بھائی چننا راج ہٹی ہولی،کوپل کانگریس کے رکن اسمبلی امرے گوڈاپاٹل کے بھائی شرنا گوڈاپاٹل اوررائچور سے بی جی پاٹل منتخب ہوئے ہیں۔ملک میں صرف 6ریاستوں میں اپر ہائوز یعنی ودھان پریشد موجودہے،اس میں جمہوری نظام کو مضبوط بنانے اور ماہرین کو منتخب کرتے ہوئے قانونی نظم کو بہتر بنانے کی ذمہ داری ہے ،لیکن یہاں سارے کےسارے باپ بچوں یا خاندانوں کا دبدبہ دیکھا جارہا ہے ۔
ایم ایل سی ٹکٹ خاندانی کے علاوہ مالداروں کی بھی ہے:۔عام طو رپر سیاسی پارٹیوں سے ایم ایل سی انتخابات سے منتخب ہونے والے اراکین کا صرف پارٹی سے جڑے رہناہی کافی نہیں ہے،بلکہ اس کیلئےخاندانی تال میل کے ساتھ ساتھ لاکھوں کروڑوں روپئے رکھنے والے بھی چاہیے ۔کیونکہ ایم ایل سی کا ایک انتخاب بلدیاتی اداروں کے زمرے سے ہوتاہے تو دوسرا گریجویٹ ووٹروں کے ووٹوں سے ہوتاہے،تیسرا انتخاب ٹیچرس حلقوں سے ہوتاہے تو چوتھا انتخاب کسی بھی شعبے میں بہتر کارگردگی کرنے والے افراد جیسے کھلاڑی،فلم اداکار،فنکار،مذہبی رہنماء کا ہونا ضروری ہے۔اس کے علاوہ اور ایک زمرہ ہے جس میں سیاسی پارٹیاں اپنی اکثریت کی بنیاد پر ایم ایل سی کو اپر ہائوز یعنی ایوانِ بالاکو روانہ کرتی ہے۔اکثریت کی بنیاد پر اپرہائوز جانے والے اراکین کو کروڑوں روپئے بطور چندہ دینا ہوتاہے اور پارٹی کے جلسوں کے اخراجات کی ادائیگی کرنی پڑتی ہے،تب جاکر انہیں ایم ایل سی کے طورپر صلہ ملتاہے۔مگر نامزد ہونے والے کچھ ایم ایل سی ایسے بھی ہیں جو چاپلوسی کی بنیاد پر ایوان پہنچتے ہیں۔
