طلباء میں تہذیب و ثقافت کاشعورپیدا کرنے میںاساتذہ کا کردار اہم ہے:جج سرسوتی

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:خاندان کی گھٹتی قدرومنزلت کے پیش نظر معاشرے کی تہذیب و ثقافت اور ثقافت کے بارے میں شعور بیدار کرنے میں اساتذہ کا کرداراہم ہوتا ہے۔ اساتذہ کی تعلیم وتربیت طلباء کی زندگیوں پرموثر انداز ڈالتی ہے۔ اس بات کا اظہار ڈسٹرکٹ لیگل سروس اتھارٹی کی ممبرسکریٹری وجج کے این سرسوتی نے کیا ہے ۔انہوں نے آج ڈسٹرکٹ لیگل سروس اتھارٹی، ضلع انتظامیہ، ڈسٹرکٹ اٹارنی اسوسیشن، وکلیگرا سنگھا کے اشتراک سے ورلڈ ہیومن رائٹس /ای گورننس/ آر ٹی آئی اور سی وی سی کے بارے میں بیداری پروگرام کا افتتاح کیا۔اس پر موقع انہوں نے بتایا کہ اپنی روزمرہ کی زندگیوں کے ساتھ ساتھ معاشرےکی تشکیل میںکچھ حد تک اپنا حصہ ڈالنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ عوام میں قانون کے بارے میں بیداری پیدا کرنا لیگل سروس اتھارٹی کی ذمہ داری ہے۔ اس کیلئے کئی طرح کے پروگراموں کا انعقاد کیا جاتارہا ہے۔ایک جمہوری ملک میں ہزاروں قوانین ہوتے ہیں۔ ہمیں اس کا علم نہیں کہ ماں کے پیٹ سےلیکر موت تک اور کچھ تو موت کے بعد بھی قانونی اندراج کی گنتی میں شامل رہتے ہیں۔ قانون کے بغیر زندگی نہیں ہےاوراس قانونی نظام کی بنیاد ہی آئین ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدرت نے بھی ہر انسان کو بہت سے حقوق دئے ہیںاورہمارے قانون نےایک باوقار زندگی گزارنے کاتمام ذات، نسل، جنس اور زبانوں کیلئے ایکساں حق دیا ہے۔ کسی دوسرے شخص کے حق کوچھینے کا قانون اجازت نہیں دیتا۔انہوں نے کہا کہ بدعنوانی پر قابو پانے کیلئے آر ٹی آئی کے ذریعے شفافیت کا طریقہ کار موجود ہے۔ سی وی سی کے ذریعے بدعنوانی پر قابو پانے کیلئےایک قانون بھی ہے۔ سی بی آئی، ای ڈی یہ سب سی وی سی کے تحت کام کرتے ہیں۔ تمام سرکاری سہولیات کو عوام تک پہنچانے کیلئے ڈیجیٹل نظام قائم کیا گیا ہے اور ای گورننس کے ذریعے شفافیت کو اپنایا گیا ہے۔دنیا میں انسانی حقوق کے بارے میں سیکھنے کے علاوہ، قانون میںانسانی فرائض اور ان کی تحویل کے بارے میں معلومات ہونا بھی اہم ہے۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ناگیندر ایف ہوناہلی، ڈاکٹر ناگراج، این دیویندرپا، ضلعی صدر شری کانت، ریسورس پرسن ایڈووکیٹ جئےپرکاش وغیرہ شامل تھے۔