ساورکر نے اپنی کتاب میں لکھاکہ گائے کا گوشت کھانے میں حرج نہیں : دگ وجے سنگھ 

سلائیڈر نیشنل نیوز
 بھوپال:۔مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس لیڈر دگ وجے سنگھ نے ہفتہ کو کہا کہ ونائک دامودر ساورکر کے نظریے کو بی جے پی اور آرایس ایس فروغ دے رہے ہیں،لیکن خود ساورکر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ گائے کا گوشت کھانے میں حرج نہیں ہے۔ وہ گائے جو اپنے ہی گوبر میں لڑھکتی ہے ہماری ماں کیسے ہو سکتی ہے؟خیال رہے کہ کانگریس نے عوامی بیداری مہم شروع کی ہے۔ اس کے تحت منعقد ایک پروگرام میں دگ وجے سنگھ نے کہا کہ ساورکر نے خود اپنی کتاب میں اس امر کی و ضاحت کی ہے کہ ہندوازم کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے، اب ہمارے ہاں بہت سے ہندو ہیں ،جو گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی مذہبی کتاب میں یہ نہیں لکھا ہے کہ گائے کا گوشت نہیں کھانا چاہیے، ہماری لڑائی آرایس ایس سے ہے، جس کا نظریہ ملک میں تقسیم کے نظریات کی اشاعت ہے۔ اس وجہ سے حقیقت کو جاننا اور سمجھنا بہت ضروری ہے۔دگ وجے سنگھ نے پارٹی کارکنوں کو مشورہ دیا کہ وہ ان کے ساتھ بدسلوکی کرنے والوں کوجوڑنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ پارٹی کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں تو اپنی انا تیاگ دیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ لوگ مجھ پر بھی تنقید کرتے ہیں، میں نے کبھی اعتراض نہیں کیا۔ مجھے گالی دینے والے کا قرض ادھار نہیں رکھتا،بلکہ میں سود کے ساتھ واپس کردیتا ہوں۔دگ وجے سنگھ نے الزام لگایا کہ بجرنگ دل کے لوگ مجرمانہ کردار کے حامل بھی ہیں۔ بجرنگ دل کے لوگ دھمکیاں دیتے ہیں، ناجائز وصولی میں ملوث ہیں ، آشرم کی شوٹنگ کو لے کر ہنگامہ کرنے والے لوگ بھی پیسے مانگنے گئے۔ دگ وجے نے یہ الزام لگایا کہ مامو (شیوراج سنگھ چوہان) کا ایک گینگ ہے، یہ لوگ ریت کی غیر قانونی کانکنی، اور اس کی دلالی کرتے ہیں۔ اگر کوئی افسر کرپشن میں پکڑا جاتا ہے تو اس کا  ٹرانسفر کر دیاجاتا ہے۔خیال رہے کہ دگ وجے سنگھ پہلے بھی اس سلسلے میں بیان دے چکے ہیں۔ کانگریس لیڈردگ وجے سنگھ نے سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید کی لکھی ہوئی کتاب کے اجرا ء کے دوران ساورکر کا ذکر کیا تھا۔دگ وجے سنگھ نے 25 ستمبر کو بھوپال کے نیلم پارک میں ہونے والے احتجاج میں کہا کہ سرسوتی شیشو مندر بچپن سے ہی لوگوں کے دل و دماغ میں دوسرے مذاہب کے خلاف نفرت کے بیج بوتا ہے، نفرت کا وہی بیج آہستہ آہستہ پھیلتا ہے اور ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی خراب کرتا ہے۔ فرقہ وارانہ منافرت پیدا کرتا ہے، مذہبی تشدد اور جنون پھیلاتا ہے اور پھر ملک میں فسادات ہوتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ سرسوتی ششو مندر آر ایس ایس کے زیراہتمام چلتا ہے۔