میسورو:۔ایک طرف مسلم معاشرے کی اصلاح کیلئے علماء کابڑا طبقہ مسلسل اصلاح معاشرے کے عنوان سے جلسےوس تحریکیں چلارہے ہیں اور مسلمانوں کو اپنے مسائل کو حل کرنے کیلئے عصری عدالتوں کا رخ کرنے کے بجائے شرعی عدالتیں جیسے دارالقضاء،دارالفتاح اور مقامی مسجدوں کے علما ء کی نگرانی میں مسائل کاحل نکالنے کی تجویز دے رہے ہیں تو وہیں کچھ ایسے ادارے بھی ہیں جہاں کے ذمہ داران و مفیتان حرام کاری پر اتر آئے ہیں،ایساہی ایک واقعہ میسوروکے شانتی نگر میں موجود دارالقضاءکے مفتی عادل پاشاہ عرف عادل صدیقی نے ان کے دارالقضاء میں خلع لینے کے مقصد سے گئی ہوئی ایک خاتون کو بدکاری کیلئے دعوت دی ہے،جس کے بعد خاتون نے اس بدکار عادل پاشاہ کی آڈیو کو خاتون نے وائرل کردیاہے۔بتایاجارہاہے کہ شوہرکے ساتھ نااتفافی ہونے کی وجہ سے خاتون نے دارالقضاء میں خلع کیلئے رجوع کیا تھا،مگر وہاں کےبدکار مفتی نے فیصلہ خاتون کے حق میں کروانے کی لالچ دیکر اُسے بدکاری کیلئے مدعوکیا۔خاتون نے اس مفتی کی نیت کو بھانپ کر پوری بات چیت موبائل میں ریکارڈ کرچکی تھی اور وہ اسے سوشیل میڈیاپر وائرل کرتے ہوئے عادل پاشاہ کی پول کھول دی۔سوال یہ ہے کہ جن مراکز کو انصاف کے مراکز اور اللہ ورسول کے احکامات کےپابند مراکز قرار دئیے جاتے ہیں وہاں پرشیطانی حرکتوں کوانجام دیتے ہوئے نہ صرف اداروں کی عظمت کو پامال کیاجارہاہے،بلکہ دینِ اسلام کو بھی بدنام کیاجارہاہے۔انصاف کی متلاشی خواتین کو حراساں کرنے کا یہ واقعہ پہلانہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی الگ الگ جگہوں پر خواتین کا استحصال کرنے کی باتیں سامنے آتی رہی ہیں۔کچھ دارالقضاء ایسے ہیں جہاں پر جس کا پلڑا بھاری ہو اُس کے حق میں فیصلہ سنایاجاتاہے اور کچھ معاملات ایسے بھی آئے ہیں جس میں خلع یا مطلقہ خواتین کو ملنے والے معاوضے کی رقم دارالقضاء کی کمیٹیاں ہڑپ کئے جارہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ ایسے بدکار مفتیان اور کمیٹیوں کے ذمہ داران کو عوام الناس کیونکر جہالت کو عام کرنے کیلئے چھوڑ رہے ہیں۔ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ ایسے لوگوں کو چپل وجوتے لیکر ان کی حیثیت یاددلواتے،مگر سوائے تماشہ دیکھنے کے اور کوئی کام نہیں ہورہاہے۔
