شیموگہ: کورونا کی مہلک وباء اوراسکی بدلی ہوئی لہر اومیکرون سے بچنے اورقابو پانے کیلئے حکومت نے آج سے 15 سال سے18 سال تک کے بچوں کیلئے کوویڈ ویکسی نیشن پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ بچوں کو چاہئے کہ وہ بغیر کسی الجھن یا خوف کے اس ویکسین کو حاصل کریں۔ اس بات کی ہدایت ڈپٹی کمشنر کے بی شیوکمار نے دی ہے۔ انہوں نے آج ضلع انتظامیہ، ضلع پنچایت، ضلع محکمہ بہبودی صحت و خاندان ، محکمہ تعلیم عامہ، محکمہ بہبودی خواتین واطفال، سرکاری پی یو کالج سائنس فیلڈکے اشتراک سے 15 سے 18 سال کے بچوں کیلئے ویکسی نیشن پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ بچے اپنے ہم عمر اورمختلف عمر کے بچوں کے ساتھ مستقل رابطے میں رہتے ہیں۔ اس وجہ سے حکومت نے پہلے مرحلے میں 15 سے 18 سال کی عمر کے بچوں کیلئے 10 روزہ ویکسی نیشن پروگرام کا انعقاد کیا ہے تاکہ کوویڈ ویکسین لگا کر اس مہلک وباءسے بچایا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو ویکسین کے بارے میں کسی طرح کی الجھن نہیں ہونی چاہئے۔یہ ویکسین محفوظ ہے اور کسی بھی طرح کا گمان نہ کرتے ہوئےبچوں کو بے خوف ہوکر اس خوراک کو لینے کا مشورہ دیا۔ضلع پنچایت سی ای او ویشالی نے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اسکول چل رہے ہیں۔اسکولوں اور ہاسٹلوں میں انفیکشن کےپھیلائو کوروکنے کے پیش نظر بچوں کو قطار کے مطابق خوراک دیتے ہوئے ویکسی نیشن پروگرام کومنظم طریقے سے کامیاب بنانے کی ضرورت ہے۔ضلع محکمہ صحت وخاندان کے افسر ڈاکٹر راجیش سرگی ہلی نے کہا کہ ضلع بھرمیں 3جنوری سے 12 جنوری تک 15 سے 18 سال کی عمر کے 83831 ہزار،بچوں کو ویکسین دینا اس پروگرام کا مقصد ہے۔اس کیلئے ضلع میں 35 ہزار کوویکسین کی خوراک دستیاب ہے۔3جنوری کو جملہ74 جگہوں پر ویکسی نیشن پروگرام کا انعقاد کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ضلع کے تمام ہائی ا سکولوں اور کالجوں میں ویکسین لگائی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ سال2007 سے پہلے اور جنوری 2007 کے بعدپیدا ہونے والے بچے ویکسین لینےکے اہل ہیںاوردوسری ڈوز کیلئے 28 دن کا وقفہ رکھا گیا ہے۔ ویکسین لینے کیلئے بچوں کو اپنا موبائل نمبر یا والدین کا نمبر دینا ہوگا ۔ اگر والدین کا نمبر پہلے سے رجسٹرڈاورکوئی دوسرا نمبربھی دستیاب نہیں ہے، تو اسکول پرنسپل کےموبائل نمبر کے ذریعے اندراج کرایا جا سکتا ہے۔اس موقع پر گورنمنٹ پی یو کالج پرنسپل بی وائی چندرشیکھرنے تقریب کی صدارت کی ،آر سی ایچ او ڈاکٹر ناگراج نائک، ڈی ڈی پی یو ناگراج ، ڈی ڈی پی آئی رمیش، ٹی ایچ او ڈاکٹر چندر شیکھروغیرہ موجود تھے۔
