چنڈی گڑھ ۔: وزیر اعظم نریندر مودی کے ایک رو زہ پنچاب دورے کے دوران سیکورٹی میں بڑی چوک کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ آج صبح وزیر اعظم بٹھنڈہ پہنچے جہاں سے انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعہ سے حسینی والامیں واقع قومی شہداء کی یادگار پر جانا تھا ۔ بارش اور کم بصارت کی وجہ سے وزیر اعظم نے تقریباً 20 منٹ تک موسم صاف ہونے کا انتظار کیا۔ جب موسم بہتر نہیں ہوا تو فیصلہ کیا گیا کہ وہ سڑک کے ذریعہ سے میموریل کا دورہ کریں گے جس میں 2 گھنٹے سے زیادہ وقت لگے گا۔ڈی جی پی پنجاب پولیس کی جانب سے ضروری حفاظتی انتظامات کی تصدیق کے بعد انہوں نے سڑک کے ذریعہ سفر شروع کیا۔ وزارت داخلہ نے کہا کہ حسینی والامیں قومی شہداء کی یادگار سے تقریباً 30 کلومیٹر دور جب وزیر اعظم کا قافلہ فلائی اوور پر پہنچا تو پتہ چلا کہ کچھ مظاہرین نے سڑک بلاک کر دی تھی ۔ وزیر اعظم 15-20 منٹ تک فلائی اوور پر پھنسے رہے ۔ یہ وزیراعظم کی سیکورٹی میں ایک بڑی چوک تھی ۔پنجاب حکومت کو وزیراعظم کے شیڈول اور سفر کے منصوبوں سے پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا۔ پروٹوکول کے مطابق انہیں سیکورٹی کے ساتھ ساتھ ہنگامی منصوبہ تیار رکھنے کیلئے ضروری انتظامات کرنے تھے ۔ وزارت نے کہا کہ ساتھ ہی ہنگامی منصوبہ کے پیش نظر پنجاب سرکار کو سڑک راستے سے کسی بھی آندولن کو محفوظ بنانے کیلئے اضافی سیکورٹی فورسیز کو تعینات کرنا تھا ، جو واضح طور پر تعینات نہیں تھے ۔ اس سیکورٹی چوک کے بعد بٹھنڈہ ہوائی اڈے پر واپس جانے کا فیصلہ کیا گیا ۔وزارت داخلہ نے اس پورے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ریاستی حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے ۔ ریاستی حکومت کو بھی اس کوتاہی کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔۔ واقعے کے بعد بھٹنڈہ ایئرپورٹ حکام کا بیان بھی سامنے آگیا ہے۔ بھٹنڈہ ہوائی اڈے کے حکام نے بتایا کہ بٹھنڈہ ہوائی اڈے پر واپسی پر پی ایم مودی نے وہاں کے اہلکاروں سے کہاکہ آپ اپنے سی ایم کا شکریہ ادا کرنا کہ میں بھٹنڈہ ہوائی اڈے تک زندہ واپس لوٹ آیاہوں ۔ پی ایم مودی دو سال کے وقفے کے بعد آج پنجاب پہنچے۔ متنازعہ زرعی قوانین کی منسوخی کے بعد ریاست کا یہ ان کا پہلا دورہ تھا۔پی ایم مودی کو 42,750 کروڑ روپے سے زیادہ کے ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنا تھا، جس میں فیروز پور میں چندی گڑھ میں قائم پوسٹ گریجویٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ ،کا سیٹ لائٹ سینٹراور دہلی-امرتسر- کٹرا ایکسپریس وے شامل ہیں ۔پی ا یم نریندر مودی کی سیکورٹی میں کوتاہی کے تعلق سے سیاسی مبصرین کے مطابق پی ایم مودی کی سیکورٹی میں کوتاہی مہلک ثابت ہو سکتی تھی۔ ان میں سب سے بڑی بات یہ ہے کہ فیروز پور سرحدی علاقہ ہے۔ پاکستان کی سرحد یہاں سے صرف دس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس کے علاوہ 23 دسمبر کو لدھیانہ کورٹ کمپلیکس میں بم دھماکہ ہوا تھا۔ اس کے بعد سے پورا پنجاب ہائی الرٹ تھا۔ اس کے باوجود وزیراعظم کی سیکورٹی میں کوتاہی برتی گئی۔پنجاب میں گزشتہ چند دنوں میں متعدد بار سرحد پار سے منشیات اور اسلحے کی سمگلنگ ہوئی۔ ڈرونز کے ذریعے ہتھیار بھیجے جا رہے ہیں۔ اس میں بین الاقوامی سطح کے ا سمگلروں کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔علاوہ ازیں ذرائع کے مطابق مرکز نے الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم کے روٹ کے بارے میں صرف پنجاب پولیس کو ہی علم تھا۔ اس صورتحال میں اسے سیکورٹی میں کوتاہی کا جواب دینا پڑیگا۔
