بی جے پی کانیا ہتھیار ؛آئی ٹی سیل کا استعمال ہورہاہے زوردار

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔ اپریل 2020 میں ٹوئٹس کی ایک سیریز میں ایک بےنام ٹوئٹراکاؤنٹ @Aarthisharma08  نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کےانفارمیشن ٹکنالوجی سیل(آئی ٹی سیل) کےغیرمطمئن ملازم ہونے کادعوی کرتے ہوئےایک انتہائی نفیس اور خفیہ ایپ کےوجودکے بارے میں بتایاتھا۔الزام لگایا گیاکہ ٹیک۔فا گ نام کے اس ایپ کا استعمال حکمراں جماعت سے وابستہ سیاسی لوگوں کےذریعےمصنوعی طور پر پارٹی کی مقبولیت کو بڑھانے، اس کے ناقدین کو ہراساں کرنے اور تمام بڑےسوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بڑے پیمانے پر عوامی تاثرات کو ایک سمت دینے کے لیےکیاجاتا ہے۔اس ہینڈل کےذریعےٹیک۔فاگ کےذکر نے دی وائر کی توجہ کھینچی، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھاکہ یہ خفیہ ایپ ری کیپچا کوڈ کو بائی پاس کرنےکی صلاحیت رکھتا تھا، جس سے ساتھی ملازمین ٹیسٹ اور ہیش ٹیگ ٹرینڈز کو آٹو-اپلوڈ کر سکتےتھے۔ اس رپورٹ کےمصنف اس گمنام ایپ کی چھان بین کےمقصد سے اس ٹوئٹر اکاؤنٹ کو چلانے والے شخص تک پہنچے۔آگے کی بات چیت میں اس سورس (ذرائع)نے دعویٰ کیا کہ ان کے روزمرہ کےمعمولات میں ٹوئٹر کے ٹرینڈنگ سیکشن کو کچھ ٹارگیٹڈ ہیش ٹیگ سے ہائی جیک کرنا، بی جے پی سے وابستہ متعدد وہاٹس ایپ گروپ بنانا، انہیں چلانا اور ٹیک-فاگ ایپ کے ذریعے بی جے پی کی نکتہ چینی کرنے والےصحافیوں کو آن لائن ہراساں کرنا شامل ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ اپنے مبینہ ہینڈلر دیوانگ دوے، جو بی جے پی کے یوتھ ونگ بھارتیہ جنتا یووا مورچہ ( بی جے وائی ایم) کے سابق نیشنل سوشل میڈیا اور آئی ٹی چیف اور مہاراشٹر میں پارٹی کے موجودہ الیکشن مینجر ہیں، کے انہیں کیے گئے۔وعدے کے پورا نہ ہونے کے بعد انہوں نے سامنےآنے کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کے مطابق، دوےنے 2018 میں بی جے پی2019 کے لوک سبھا انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے پر انہیں ایک اچھی نوکری دینے کا وعدہ کیا تھا، جو پورا نہیں ہوا۔اگلے دو سالوں میں آپسی بات چیت کا ایک طویل عمل جاری رہا، جہاں دی وائر کی ٹیم نے اس بات کی چھان بین کی کہ وہسل بلوور کی جانب سے لگائے گئےالزامات میں کن چیزوں کی تصدیق کی جا سکتی ہے اور کن چیزوں کی نہیں۔اس کے علاوہ اس طرح کے ایپ کے ہونے سےعوامی فورم کےبحث ومباحثہ اور ملک کے جمہوری عمل کے تقدس پر مرتب ہونے والے ہمہ گیر اثرات کی بھی چھان بین کی گئی۔اِن-کرپٹیڈ ای میل اور آن لائن چیٹ روم کے ذریعے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے پیچھے موجود شخص نے ایپ کی خصوصیات کو ظاہر کرنے والے کئی اسکرین کاسٹ اور اسکرین شاٹ بھیجے۔ذرائع نے(عوامی نہ کرنے کی شرط پر)اپنی اور ان کےمالکوں کی شناخت قائم کرنے کے لیے پے-سلپ(ادائیگی کی رسید)اور بینک کی تفصیلات بھی شیئر کیں۔وہسل بلوور کی جانب سے لگائے گئے ہرالزام کو آزادانہ طور پرتصدیق کے ایک عمل سے گزاراگیا، جس کے ذریعےدی وائر کی ٹیم نے ایپ کےمختلف کاموں، ایپ بنانے والوں اور صارفین کی شناخت اور اس کا استعمال کرنے والی تنظیموں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔اِن ۔کرپٹیڈ ای میل اور آن لائن چیٹ روم کے ذریعے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے پیچھے موجود شخص نے ایپ کی خصوصیات کو ظاہر کرنے والے کئی اسکرین کاسٹ اور اسکرین شاٹ بھیجے ۔ذرائع نے (عوامی نہ کرنے کی شرط پر) اپنی اور ان کے مالکوں کی شناخت قائم کرنے کے لیے پے-سلپ(ادائیگی کی رسید)اور بینک کی تفصیلات بھی شیئرکیں۔ذرائع کے مطابق ٹیک-فاگ ایپ کی براہ راست ایکسس (رسائی) نہیں دی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کئی حفاظتی پابندیوں کی وجہ سے ممکن نہیں ہے،جس میں ایپ ڈیش بورڈ میں لاگ-ان کرنے کے لیے تین ون ٹائم پاس ورڈ (اوٹی پی)کی ضرورت اور دفتر سے باہر اس کے استعمال کو روکنے کے لیےلوکل فائر وال کی موجودگی شامل ہے۔حالاں کہ وہ ہمیں ای-میل کی معرفت بی جے وائی ایم کےایک عہدیدار سےجوڑنے میں کامیاب ہوگئے، جس کے ذریعےمہیا کرائے گئےکوڈ اسکرپٹس نےدی وائی کی ٹیم کوٹیک-فاگ ایپ کوہوسٹ (میزبانی)کرنے والےسیکیور سرورکو جوڑنے والے متعدد بیرونی ٹولز اور سروسز کی شناخت کرنے میں مدد کی۔پرائمری شواہد کے علاوہ دی وائر کی ٹیم نے ذرائع کی جانب سے مہیا کرائے گئےمتعددسوشل میڈیامواد اور اس ایپ کو چلانے والے نیٹ ورک انفراسٹرکچر کی مفصل فارنسک جانچ کرنے کے لیےکئی اوپن سورس جانچ تکنیکوں کا استعمال کیا۔نیٹ ورک کے بارے میں مزید جاننے کی غرض سےٹیم نے دوسرےآزاد ماہرین اور بڑے آپریشنوں میں شامل اداروں کے موجودہ ملازمین کا بھی انٹرویو کیا۔اس عمل کے ذریعے دی وائر کوشواہد کےتاروں کو آپس میں جوڑ کرآگے بڑھنے اور ایک بڑے آپریشن کا انکشاف کرنے میں کامیابی ملی،جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں عوامی بحث ومباحثہ کو گمراہ کرنے کے لیےقدم سے قدم ملاکر کام کرنے والےسرکاری اور نجی اتھارٹیوں کےاتحاد کی جانب اشارہ کر رہا تھا۔ایسا تقریباً تمام بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پرفرضی ٹرینڈ کو آگے بڑھا کر اور بحث ومباحثہ /چرچہ کو اپنے حساب سےہائی جیک کرتے ہوئےکیا جا رہا تھا۔ذرائع کی جانب سےدستیاب کرائے گئے اسکرین کاسٹ اور اسکرین شاٹ نے ایپ کی متعددخصوصیات کونشان زدکیا اور سائبر دستوں کے کام کاج کےڈھانچے کو اور قریب سےسمجھنے میں ہماری ٹیم کی مدد کی۔یہ سائبر آرمی اس ایپ کا استعمال روزانہ عوامی مباحثوں میں ہیرا پھیری کرنے، آزاد آوازوں کو ہراساں کرنے اور دھمکی دینے اور ہندوستان میں یکطرفہ انفارمیشن کی تشہیر کے لیے کرتی ہے۔