شکاری پور:۔گلشن زبیدہ میں ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی ننانویں کتاب ’’ہمارے سپہ سالار‘‘ کی پروقار اجرائی تقریب منعقد کی گئی، جس میں بین الاقوامی شخصیت کے مالک مولانا محمدالیاس ندوی نےشرکت کی اور ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی کتاب ’’ہمارے سپہ سالار‘‘ کا اجرا کیا۔ اس اجرائی تقریب میں جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے مہتمم حضرت مولانا مقبول احمد ندوی، مولانا اسامہ صدیقی ندوی، مولانا بشیر احمدندوی، مولانا ابرار احمدندوی، اور سی، اے عبدالشکور ،مولانا محمد اظہرالدّین اظہر ندوی کے علاوہ بھی بہت سارے علماء اور شعراء وادبا شریک تھے۔مولانا محمد الیاس ندوی نے اپنی اجرائی تقریر میں کہا کہ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کو ادب اطفال کے لیے جو قومی ایوارڈ ملا ہے میں سب سے پہلے اس کی مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہ ایوارڈ صرف ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کو نہیں ملا ہے، بلکہ پوری علما برادری کو ملا ہے۔ حافظؔ کرناٹکی کو ملنے والا ایوارڈ ایک پیغام ہے کہ ہم چاہیں تو اپنا تشخص قائم رکھتے ہوئے بھی اپنی صلاحیتوں سے لوگوں کی توجہ حاصل کرسکتے ہیں۔ اور اپنی لیاقت اور قابلیت سے قومی ایوارڈ حاصل کرسکتے ہیں۔ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کو میں برسوں سے جانتا ہوں، جب میں نے اسلامیات کو عصری اسکولوں میںشامل کرنے کا ارادہ کیا اور اس حوالے سے ادارہ چلانے والوں کے تعاون کی خواہش ظاہر کی تو لوگ سوچتے رہ گئے اور حافظؔ کرناٹکی نے سب سے پہلے میرے خیال کی تائید کی۔ حالانکہ ابھی اسلامیات کا نصاب تیار بھی نہیں ہوا تھا۔ میں نے جب بچوں کیلئے اسلامیات کی تدوین و ترتیب کا کام شروع کیا اور’’ بچوں کی ذہنی غذا کے لیے صالح فکر کی نظموں، حمدوں، نعتوں، اور دعاؤں کی تلاش شروع کی کہ انہیں نصاب میںشامل کروں تو سب سے زیادہ صالح ادب کا خزانہ حافظؔ کرناٹکی کی کتابوں سے ملا۔‘‘ اور میں نے ان کی نظموں، حمدوں اور نعتوں کو نصاب میںشامل کیا۔ آج اسلامیات ملک اور بیرون ملک کے بہت سارے عصری اسکولوں میں پڑھایاجاتا ہے۔ ’’اسلامیات‘‘ کا ترجمہ 14 ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں ہو چکا ہے۔ اس میں شامل حافظؔ کرناٹکی کی نظمیں، حمدیں، نعتیں اور دعائیں بھی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہیں۔ حافظؔ کرناٹکی نے ان تمام چیزوں کو ادب اطفال کا حصّہ بنادیاہے جس کے بارے میں ہم سوچتے تھے۔ لوگ ایک دو کتابیں تصنیف کرنے میں زندگی لگادیتے ہیںلیکن حافظؔ کرناٹکی 100ویں کتاب کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔اس موقع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے کہا کہ میں اسے اپنی سعادت سمجھتا ہوں کہ میری ننانویں کتاب کا اجرا ایک نہایت جید عالم کے ہاتھوں ہوا۔ مولانا محمدالیاس ندوی بین الاقوامی شخصیت کے مالک اسلامی اسکالر ہیں تو اسلامی اور عالمی تاریخ کی روح کے رمز شناس بھی ہیں۔ وہ جغرافیائی صورت حال اور کیفیات کے واقف کار ہیں تو عصری اور دینی تعلیم کی آمیزش کی خوبیوں سے بھی پوری طرح آگاہ ہیں۔ وہ اپنے آپ میںایک تحریک کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی خدمات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اگر ساری چیزوں کو سمیٹا جائے توایک دفتر تیار ہوجائیگا۔ وہ ایک اچھے محدث ہیں تو بہترین اور بصیرت میں اضافہ کرنے والے مفسر قرآن بھی ہیں۔ انہوں نے جہاں اسلامیات کے توسط سے قوم کے نونہالوں کی روح میں اسلام کی روح کی پاکیزہ خوشبو کو بسانے کی کامیاب کوشش کی ہے، وہیں انہوں نے عصری علوم کے مثبت پہلوؤں کو بچوں کے ذہن پر ثبت کرنے کی بھی بھرپور کاوش کی ہے۔ انہوں نے مولانا ابوالحسن علی اکیڈمی قائم کرکے اسلامی تعلیمات اور افکار کو گھر گھر پہونچایا ہے تو ’’ارمغان‘‘ جیسا معتبر رسالہ نکال کر عوام و خواص کی ذہن سازی میں بھی اہم رول ادا کیا۔ ان کے عملی کاموں میں علی ایجوکیشنل ٹرسٹ بھٹکل تاریخ کی پیشانی کا درخشاں ماہتاب ہے۔ بے شمار علی پبلک اسکول ملک اور بیرون ملک میںقائم ہوچکے ہیں جو ملّت کے نونہالوں کی اسلامی نہج پر علمی اور فکری تربیت کررہے ہیں۔ وہ اپنے کالجوں میں بھی اسلامی ماحول بنائے رکھنے میں پوری طرح کامیاب ہیں۔ ان کی کتابیں بھی وقت کی اہم ترین ضرورتوں کو پوری کرتی ہیں۔ ان کی کتابوں میں مسرت کا جتنا سامان ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ بصیرت کاسامان ہوتا ہے۔ ان کی شخصیت اخلاص، محبت اور دین داری کے خمیر سے تیار ہوئی ہے۔ اتنی ہمہ گیر، ہر دل عزیز، علم و عمل کی پیکر شخصیت کا ہمارے درمیان آنا ہماری سرفرازی کاباعث ہے۔ میںان کا بے حد ممنون ہوں کہ انہوں نے ہمارے لیے اپنا قیمتی وقت نکالا اور میری ننانویں کتاب ’’ہمارے سپہ سالار‘‘ کے اجراکے لیے خوشی بہ خوشی تیار ہوئے۔ آج میں ان کا اعزاز کرتے ہوئے فخر محسوس کررہا ہوں کہ ایسے معزز انسان کا اعزاز کرنے کا اللہ نے شرف بخشا۔ ہمارے درمیان موجود سبھی علماء کرام اپنی خوبیوں کی وجہ سے انفرادی شناخت رکھتے ہیں۔ اس لیے ان سبھوں کا اعزاز میرے لیے باعث مسرت و انبساط ہے۔آفاق عالم صدیقی نے اس اجرائی تقریب کے اغراض و مقاصد کی وضاحت اور استقبالیہ کی ذمہ داری اداکی۔مولانا اسامہ صدیقی کی دعا پراس تقریب کا اختتام پذیر ہوئی۔اس مجلس کے انعقاد میں انیس الرّحمان سکریٹری ایچ کے فاؤنڈیشن، انجینئر محمد شعیب، اور دوسرے بہت سارے لوگوں نے اپنا تعاون پیش کیا۔
