دہلی:۔ ایک کھلے خط میں انڈین انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم ) کے طلباء اور فیکلٹی ممبران نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملک میں نفرت انگیز تقریر اور ذات پات پر مبنی تشدد کے خلاف بولنے کی اپیل کی ہے۔ خط پر آئی آئی ایم احمد آباد اور آئی آئی ایم بنگلور کے کچھ طلباء اور فیکلٹی ممبران کے دستخط ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ ان مسائل پر وزیراعظم کی خاموشی نفرت انگیز آوازوں کو فروغ دے رہی ہے۔واضح رہے کہ حال ہی میں ہریدوار میں دھرم سنسد میں نفرت انگیز تقریر کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ دھرم سنسند میں کچھ ہندو مذہبی رہنماؤں نے لوگوں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیارنے کی اپیل کی اور نسل کشی پر زور دیاتھا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ مذہب؍ذات کی شناخت پر مبنی کمیونٹیز کے خلاف نفرت انگیز تقریر اور تشدد کا مطالبہ ناقابل قبول ہے۔ کہا گیا ہے کہ گرچہ ہندوستانی آئین احترام کے ساتھ اپنے مذہب پر عمل کرنے کا حق دیتا ہے، لیکن ملک میں خوف کا ماحول ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ اب ہمارے ملک میں خوف کا احساس ہے – حالیہ دنوں میں گرجا گھروں سمیت عبادت گاہوں میں توڑ پھوڑ کی جا رہی ہے، اور ہمارے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی بات کہی جارہی ہے۔
