بنگلورو:۔کوویڈ19 کی دوسری لہر روزبہ روزعرج پانے لگی ہے، جس کی وجہ سے کرناٹک حکومت نے 22اپریل سے 4مئی 2021 تک سخت قوانین نافذ کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ ان قوانین کی مذمت میں ویلفیر پارٹی آف انڈیا نےاعتراض ظاہر کیا ہے۔اس سلسلے میں ریاستی حکومت کو یادداشت پیش کرتے ہوئے ویلفیر پارٹی آف انڈیا کے ریاستی سکریٹری تاج الدین شریف نے کہا کہ ایک طرف حکومت نے رات 9 تا صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ کیا ہے وہیں ویک اینڈ میں جمعہ کی رات 9 بجے سے لیکر بروز ہفتہ، اتوار اورپیر کی صبح 6 بجے تک مکمل لاک ڈائون کے رہنمائی خطوط جاری کئے ہیں تو دوسری طرف حکومت کےان اصولوں پر پابندی کے علاوہ بھی ریاست کے تمام اضلاع میں ضلع انتظامیہ کی جانب سے دوپہر 2 بجے سے ہی کرفیو جاری کیا جارہا ہے۔ دکانیں سمیت تمام کاروباری مراکز بند کئے جارہے ہیں۔تنظیم نےاس بات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کا ایک قانون ہے تو ضلع اورتعلقہ انتظامیہ کا ایک الگ قانون ہے اورایسے قوانین پر عوام کو سخت مخالفت کرنا چاہئے۔ کچھ ریاستوں کو لگتا ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن سے کورو ناوائرس پر قابو پاناناممکن ہے۔ پچھلے ایک سال سے لاک ڈائون، سیل ڈائون، سیکشن 144 جیسے اصولوں کو نافذ کرنے سے غریب ، مزدوری کرنے والے مزدوروں ، ہوٹل کے کارکنوں ، ہمالی کارکنوں ، کپڑے کی دکانوں ، گروسری اسٹور ، فٹ پات فروشوں ، گھریلو ملازموں کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔حکومت کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے مناسب علاج سے محروم پہلے ہی ہزاروں لوگ کورونا کی وباء کا شکار ہوکر قربان ہوچکے ہیں۔ ضلع اور تعلقہ کے سرکاری اسپتالوں میں ضروری وبروقت علاج کی قلت اور دوائوں کی قلت کی وجہ سے مریض پریشان ہوکردربدر بھٹک رہے ہیں۔فوراً ضلع اورتعلقہ انتظامیہ کو چاہئے کہ کورونا وائرس کے علاج کیلئے ضروری سامان اور دوائیں مہیا کریں اورحکومت کی ہدایت کے مطابق مریضوں کا مناسب علاج کرنے کو ترجیح دیں۔پہلے ہی ضروری اشیاء کی قیمتیں آسمان چھورہی ہیں۔ جس کی وجہ سے عام زندگی پریشان حال ہے۔ اس پر دوبارہ کرفیو، نافذ کرنے سےجہاں ہول سیلر اور بڑی بڑی دکانوں کے مالکان کم قیمت پر فروخت ہونے والی چیزوں کو دوگناہ داموں میں فروخت کرکے عام لوگوں کو اور زیادہ پریشان کردیتے ہیں۔ یہ نظارہ ہم نے پچھلے لاک ڈائون کے دوران دیکھ چکے ہیں ۔تنظیم کی جانب سے مطالبہ کیا گیا ہےکہ ضلع انتظامیہ اورتعلقہ انتظامیہ کو اس ضمن میں ضروری کارروائی کرنے کی ضرورت ہے اور زیادہ قیمتوں پر ضروریات کی اشیاء کو فروخت کرنے والے ہول سیل ڈیلروں اوردکانداروں پر سخت قانونی کارروائی کرنے پر زور دیا گیا۔
