کیا کرناٹک میں کے ایم ڈی سی کا زوال شروع؟ اقلیتوں کے سماجی،معاشی اور تعلیمی وجود کو ختم کرنے کی پہل

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔مذہبی اقلیتوں کے سماجی،تعلیمی اور اقتصادی حالات کو بہتر بنانے کے مقصد سے قائم شدہ کرناٹکا مائناریٹی ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے این بی ایف سی کی حیثیت کھونے کیلئے تیاری کرچکے ہیں۔این بی ایف سی یعنی نان بینکنگ فائنانشیل کمپنی جو ریزرو بینک کے ضوابط کے مطابق قرضہ جات اور مالی امداد جاری کرتاہے،وہ آربی آئی کے ضوابط پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے آربی آئی اسکے  لائسنس کو رد کرنے کی تیاری میں ہے۔اطلاعات کے مطابق آربی آئی کے ضوابط کے مطابق کے ایم ڈی سی کےاین بی ایف سی شعبے میں صحیح طریقے سے کام نہیں ہورہاہے اور نہ ہی قرضہ جات کی ادائیگی کیلئے این بی ایف سی کی طرف سے پیش رفت ہورہی ہے۔کئی قرضہ جات کی سود کی رقم تک کے ایم ڈی سی نے ادانہیں کئے ہیں،اس کے علاوہ این بی ایف سی کے لائسنس کو رینیول کروانے کیلئے کے ایم ڈی سی کی طرف سے پیش رفت بھی نہیں ہوئی ہے۔آربی آئی کی ریجنل ڈائریکٹر نے کرناٹکا حکومت کے چیف سکریٹری سال2021 کے اکتوبر 25 کو ایک خط لکھا تھا،اسی طرح سے فائنانس ڈیپارٹمنٹ کے اڈیشنل چیف سکریٹری اور مائناریٹی ڈیپارٹمنٹ حج اور وقف کے سکریٹری کو بھی خط لکھ کر آربی آئی نے معقول اقدامات اٹھانے کیلئے ہدایت دی تھی۔لیکن این بی ایف سی کا رجسٹریشن حاصل کرنے کیلئے نہ تو کے ایم ڈی سی کی طر ف سے پیش رفت ہوئی ہے اورنہ ہی محکمہ اقلیتی بہبودی کے سکریٹری نے اقدامات اٹھائے ہیں۔ریزرو بینک آ ف انڈیاکے دائریکٹر نے اکتوبرمیں اس تعلق سے خط لکھنے سے پہلے مارچ میں بھی خط لکھا تھا،مگر دونوں ہی خطوط کو نظراندازکئے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔کرناٹکا مائناریٹی ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے این بی ایف سی کے ضوابط پر عمل نہ کئے جانے کی بات آربی آئی نے کہی ہے،اسی وجہ سے اس کے لائسنس کو منسوخ کیاجائیگا۔کرناٹکا مائناریٹی ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا قیام1986 کے7 فروری کو ہواتھا،یہ ایک حکومتی ادارہ ہے،ایک کروڑ روپیوں سے زیادہ کی رقم حکومت نے اس وقت شیئر کی شکل میں سرمایہ لگایاتھا اور ا س کی نگرانی کرناٹکا حکومت کے اقلیتی بہبودی کے ذمہ ہے۔کے ایم ڈی سی اقلیتوں کو روزگارکیلئے قرضہ جات،اریو،شرما شکتی،مائکرولون،زراعتی زمین کی خریداری کیلئے پیسے،گھروں کی تعمیر کیلئے مارجن لون، عیسائی سماج کیلئے گھروں کی تعمیر کیلئے خصوصی قرضہ جات،گھروں کی خریداری کیلئےقرضہ جات دینے کا کام کرتاہے،اس کارپویشن نے سال16-2015 میں1068 کروڑ رپئےجاری کئے تھے ان میں 976 کرو ڑ روپئے خرچ کئے گئے تھے،سال17-2016 میں 1527 کروڑ روپئے منظور ہوئے تھے،جن میں سے1424 کروڑ روپئےخرچ کئےگئے تھے۔سال 17-2018 میں2191کروڑ روپئےجاری کئے گئے تھے جس میں 2116کروڑ روپئےخرچ ہوئے ہیں۔اریو منصوبے کے تحت سال18-2017 میں330 کروڑ روپئے منظور ہوئے تھے،ان میں سے263.94کروڑ روپئےخرچ ہوئے ہیں،یہ تفصیلات محکمہ اقلیتی بہبودی نے ودھان منڈل میں فراہم کی ہیں۔دوسری جانب اریو منصوبے کے تحت بینک کے قرضے لے رہےطلباء کو دوبارہ لون حاصل کرنے کیلئے پچھلےسال کے لون کی رقم کا سود اداکرنے کی شرط رکھی گئی ہے،جس کی وجہ سے طلباء کو مزید پریشانیوں کا سامنا کرناپڑرہاہے۔لیکن اقلیتوں کے ان مشکلات کے تئیں کوئی سنجیدگی کامظاہرہ نہیں کررہاہے،نہ ہی اقلیتوں کو درپیش مسائل کوحل کرنے کیلئے خود مسلمانوں کی طرف سےآواز اٹھ رہی ہے،البتہ اپنے سیاسی قائدین کی واہ واہی،جی حضوری اور چاپلوسی کا سلسلہ زوروں پر ہے۔