از:۔مدثراحمد،شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
قیات قریب ہے،یہ بات سب لوگ جانتے ہیں لیکن قیامت بے حد قریب ہے یہ بات اس سے واضح ہورہی ہے کہ اس وقت مسلمانوں کی حالت بالکل قربِ قیامت کے مسلمانوں جیسی ہوچکی ہے،قیامت کی نشانیوں نے اللہ رسول ﷺنے بتایاکہ جب دنیا میں گناہ زیادہ ہونے لگے،حرام کاموں کو لوگ کھلم کھلا کرنے لگے،ماں باپ کو تکلیف دیں اور غیروں سے میل جول رکھیں،امانت میں خیانت کریں،زکوٰۃ دینا لوگوں پر گراں گذرے،دُنیا حاصل کرنے کیلئے علم دین پڑھایاجائے،ناچ گانے کا رواج زیادہ ہوجائے،بدکارلوگ قوم کے پیشواء اور لیڈر ہوجائیں،چروا ہے وغیرہ کم درجہ کے لوگ بڑی بڑی بلڈنگوں میں رہنے لگیں تو سمجھ لیں کہ قیات قریب آگئی ہے،اس کے علاوہ اور بھی کئی نشانیاں ہیں جو ظاہر ہوچکی ہیں۔قیامت کے قریب نشانیوں میں ایک اہم نشانی یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے ہوتے ہوئے پیغمبروں اور صحابہ کی توہین ہوتی رہے گی اور مسلمان خاموش ہوجائینگے اور یہ دلیل دینگے کہ حکمت کی وجہ سے ہم خاموش ہیں۔یقین جانئے کہ پچھلے کچھ دنوں سےبھارت کے مختلف مقامات پر نبی کریمﷺکے تعلق سے بے جا اور غیر اخلاقی الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے توہین رسالت کی حرکتیں انجام دی جارہی ہیں،لیکن ان شرپسندوں کے تعلق سے جس طرح سے مسلمان سافٹ کارنر مسلمان ہوچکے ہیں وہ قابل تشویش بات ہے۔ویسے تو دُنیا میں مندرجہ بالانشانیاں کم وبیش پورے ہوتے جارہے ہیں،عرب میں جو چرواہے ہواکرتے تھے وہ اب اچھے اور بلند ترین عمارتوں میں قیام کررہے ہیں،چروا ہوں کے ہاتھوں میںاقتدارآچکاہے،آج کُربا اور یادوسماج جن کا پیشہ ہی بکرے چراناہے،انہیں کی ادنیٰ مثال لے لیجئے کہ وہ کس طرح سے عہدوں پر قابض ہوچکے ہیں۔اس مضمون میں ہم دیگر نشانیوں سے زیادہ اُس بات پرتبصرہ کرنے چاہیں گے کہ جس میں توہین رسالت کی وارداتوں پر مسلمانوں کی خاموشی اجاگر ہورہی ہے،جو مسلمان اپنے نبیﷺکی خاطر شمشیریں نکل جاتے تھے،آج وہی مسلمان صرف نعرے وجلسوں تک ہی محدود ہوچکے ہیں،عشق رسولﷺمیں گردنیں کٹانے والے مسلمان نعتیہ مشاعروں میں اس طرح سے محو ہوچکے ہیں کہ انہیں کوئی احساس تک نہیں ہے کہ آخر ہمارے نبیﷺکے تعلق سے غیر کیسے کیسے بے حرمتی کررہے ہیں۔نبیﷺکے تعلق سے نازیبہ الفاظ کو سننے اور کہنے کی سکت تک مسلمانوں میں نہیں تھی،آج وہی مسلمان محض سوشیل میڈیا پر افسوس افسوس کہتے ہوئے وقت گذاررہاہے،نہ کسی میں غازی بننے کی چاہ ہے،نہ ہی مجاہد بننے کی آرزو ہے،ہاں عشق رسول ﷺ اور محبت رسول کے دعویدار تو بہت ہیں لیکن اس ملک کے قانون کا بھی استعمال کرتے ہوئےان شرپسندوں کے خلاف محاذ آراء ہونے کیلئے کوئی تیارنہیں ہے۔آخرکب تک مسلمان اس طرح کی بزدلی میں جی کر اپنے نبیﷺکی شان میں گستاخیوں کو سنتے رہے گیں۔
