شیموگہ: اگر ہمار ی بات مان لیتے تو کھرگے، موئیلی، ابراہیم، ریونا کسی کو بھی کوویڈ نہیں آتا۔کانگریس قائدین کے پدیاترا روک دینے کے اعلان کے بعد وزیر برائے دیہی ترقیات وپنچایت راج کے ایس ایشورپا نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بزرگوں کا قول ہے کہ عقلمند کوزبان کی مار اوربے وقوف کو لکڑی کی مار کافی ہوتی ہے۔ ہم نے شروع سے ہی سمجھایا تھا کہ پیدل احتجاج کی ضد چھوڑ دیں ، اگر کانگریس قائدین اسی وقت سمجھ جاتے تو آج انکے لیڈروں کو کورونا کا شکار نہیں ہونا پڑتا۔ اس وقت ہم کانگریس لیڈروں کی ایک لمبی فہرست بتاسکتے ہیں جنہیں کورونا نے اپنا شکار بنالیا ہے۔ اس کے علاوہ ریاست کے الگ الگ جگہوں سےاس احتجاج میں شامل ہونے والے ناجانے کتنے لیڈروںمیں کورونا ہوسکتا ہے اسکا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا ہے۔ وزیر موصوف نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپنے غلط فیصلوں کی وجہ سے کانگریس قائدین خود بھی تکلیف اٹھارہے ہیں اوراپنے ساتھ ساتھ ریاست کی عوام کو بھی مشکلات میں ڈال چکے ہیں۔ ایسا انتظام صرف کانگریس پارٹی ہی کرسکتی ہے۔ کانگریس لیڈروں کو اب جاکر یہ احساس ہوا ہے کہ وہ ریاست کی عوام کے مفادات کو دیکھتے ہوئے اس پدیاترا کوردر کررہے ہیں جبکہ انہیں یہ اُس وقت یاد کیوں نہیں آیا جب یہ تمام پدیاترا کی ضد پکڑ کر بیٹھے تھے۔انہوں نے کہا کہ کوویڈ کے جانے کے بعد کانگریسی جتنا چاہئے سیاست کرلیں کوئی نہیںروکے گا۔ہمیں بھی سیاست کرنی آتی ہے۔ویسے ہم بھی سیاست کرکے ہی مرکز اور ریاست میں اقتدار میں ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کے مشکل دور میں اپوزیشن کاکام تعاون کرنا اورمشورے دینا ہوتا ہے،لیکن آپ نےاپنی خراب سیاست کی وجہ سے مرکز اور ریاست کو کھو دیاہے۔ آپ کوریاست کے لوگوں سے معافی مانگیںچاہئے۔
