
کابل :افغانستان کے مغربی علاقے میں پیر کے روززلزلے کے نتیجے میں 30 سے زیادہ افراد ہلاک اور سیکڑوں گھر تباہ ہو گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پرشیئر کی گئی تصاویرکے مطابق 5.6 کی شدت کے زلزلے نے دوپہر کے وقت مغربی صوبہ بادغیس کے بیشتر علاقوں کو ہلا کررکھ دیا۔اس کے نتیجے میں اینٹوں کے گھر ملبے کا ڈھیربن گئے۔

بادغیس ترکمانستان کی سرحد سے متصل واقع ہے. بادغیس کی صوبائی انتظامیہ میں اطلاعات وثقافت کے ڈائریکٹر بازمحمد سروری نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ’’ بدقسمتی سے ہماری ابتدائی اطلاعات سے ظاہرہوتا ہے کہ زلزلے میں خواتین اور بچّوں سمیت 22 افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں‘‘۔انھوں نے کہا کہ مجاہدین کچھ متاثرہ علاقوں تک پہنچ چکے ہیں لیکن بادغیس پہاڑی صوبہ ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے۔نیززلزلے سے متاثرہ علاقے میں موسلادھار بارش ہو رہی ہے۔ان کا اشارہ طالبان جنگجوؤں کی امدادی سرگرمیوں کی جانب تھا۔افغانستان کی ہنگامی امور کی وزارت کے ایمرجنسی آپریشنزسنٹر کے سربراہ ملّا جانان سائق نے ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ 700 سے زیادہ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔
