وقف افسر مدار پٹیل کا تبادلہ؛چھ سال کی بہترین خدمات بنی شیموگہ کیلئے مثال

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شیموگہ:۔یوںتو سرکاری افسروں کاآنا جانا رہتاہے لیکن کچھ افسر ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی خدمات کے دوران ایسے کام کرجاتےہیں جو دوسروں کیلئے مثال بن کر رہے جاتے ہیں۔ایساہی کام شیموگہ ضلع وقف بورڈکے ضلعی افسر مدار پٹیل نے انجام دیاہے،جنہوں نے چھ سال کی مدت میں60 سال کے پرانے معاملات کو بھی دیگر افسران کے ساتھ مل کر سلجھایاہے۔ضلع وقف بورڈکے سابق افسر مدار پٹیل کے ساتھ روزنامہ نے خصوصی گفتگوکی جس میں انہوں نے بتایاکہ وہ شیموگہ میں خدمات انجام دیکر بہت خوش ہیں،شیموگہ میں اکثریت اچھے لوگوں کی ہے،لیکن بُرے لوگوں سے بھی بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔جیسے ہی میں شیموگہ میں وقف افسر بن کر آیاتومیرے سامنے سُنی مرکزی عیدگاہ کے دستاویزات تیارکرنے کی ذمہ داری،جے پی نگرکے قبرستان وعیدگاہ کے دستاویزات تیارکرنے کی ذمہ داری،کلہلی قبرستان کے دستاویزات کو درست کرنے کی ذمہ داری عائدتھی،ان دستاویزات کو تیارکرنے کیلئے مقامی کمیٹی کے نمائندوں کے علاوہ وقف مشاورتی کمیٹی کے صدرواراکین بھی میرا تعاون کرتے رہے،خصوصاً مرکزی عیدگاہ کےدستاویزات پہلےصرف8X10 فٹ کےتھے،جس کے بعد ہم نے جدوجہد کرتے ہوئے34 ہزارفٹ کے دستاویزات تیارکروائے،ساتھ میں جے پی نگر قبرستان کے دستاویزات سرکاری دستاویزات کے نام سے تھے جس میں ترمیم کرواتےہوئے مسلم قبرستان کے نام سے کھاتہ بنایاگیا۔اسی طرح سے کلہلی کے قبرستان کے دستاویزات بھی بنا کر وہاں بنیادی سہولیات سرکاری منصوبوں کے تحت نافذ کروائے گئے۔وقف افسر مدارپٹیل نے بتایاکہ میری خدمات کے دوران میں کئی اداروں کا اڈمنسٹریٹر بھی رہاہوں،اس دوران اوقافی اداروں کی فلاح وبہبودی کیلئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔شیموگہ شہرکی سُنی جامع مسجدکا جب میں اڈمنسٹریٹر تقررکیاگیاتو اُس دوران مسجدکے کھاتے میں 16 لاکھ روپئے بقیہ رقم تھی،بعدمیں نے مسجدکے مسائل کو حل کرتے ہوئے نہ صرف پی پی ایکٹ میں دائرکردہ مقدمات کوحل کروایا بلکہ بقیہ جات کی وصولی بھی کروائی گئی۔کرایہ داروں کا پُرانا کرایہ بڑھاکرمسجدکیلئے آمدنی کے وسائل بڑھائے گئے۔آج کی تاریخ میں جامع مسجدکے کھاتے میں 40 لاکھ روپئے باقی ہیں۔اس رقم سے میں نے وقف ایکٹ کے مطابق30 فیصد رقم تعلیم ،اسپتال کے اخراجات اور شادیوں کیلئے بھی استعمال کئے ہیں،اس کے بعد بھی آج بھی بڑی تعدادمیں 40 لاکھ کی رقم باقی ہے۔اسی طرح سے حضرت شاہ علیم دیوان درگاہ کامپلکس کی آمدنی کو بڑھانے اور رینٹ اگریمنٹس کو ترتیب دینے کی پوری کوشش کی گئی ہے۔لیکن میری معیادمیں یہ ایک کام پورانہ ہوسکاجس کا مجھے افسوس ہے وہ یہ کہ حضرت بدرالدین شاہ درگاہؒ کے حدودمیں موجود5.1 ایکرزمین پر ہائی ٹیک مسلم پی جی ہاسٹل بنانے کا منصوبہ میں نے ریاستی وقف بورڈکے سامنے پیش کیا جس کیلئے ریاستی وقف بورڈنے5.9 کروڑ روپئے دینے کا ارادہ کیاہے،مگر اب بھی یہ منصوبہ اسکریننگ کمیٹی کے سامنے ہے،وہاں سے منظوری ملتے ہی کام شروع ہوجائیگا۔مدار پٹیل نے مزید بتایاکہ مستقبل میں اگر خداکی مرضی ہوتو دوبارہ شیموگہ میں خدمات انجام دینے کیلئے اپنا شرف سمجھونگا۔