دیوبند :۔مسلم خواتین کے ذریعہ پردے کے نام پر استعمال کیے جار ہے مختلف ڈیزائن دار بر تھے اور تنگ لباس پہننے کو دار العلوم دیوبند نے سخت گناہ اور ناجائز قرار دیا ہے۔ دارالافتاء کی جانب سے سامنے آئے فتوی میں کہا گیا ہے کہ ایسا برقع یا لباس پہن کر عورت کا گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے جس کی وجہ سے اجنبی مردوں کی نگاہیں ان کی جانب متوجہ ہوں۔ دیو بند کے ہی ایک شخص نے دارالعلوم کے شعبہ افتا سے تحریری سوال پوچھا تھا کہ مسلم خواتین کے لیے ایسا برقع یا لباس پہننا کیسا ہے جس میں عورتوں کے اعضا ظاہر ہوتے ہوں یا ایسا چمک دمک کا برقع پہن کر بازار میں جائیں ، جس کی وجہ سے غیر مردوں کی نگاہیں اس کی جانب متوجہ ہوں ۔دار العلوم دیوبند کے مفتیان کرام نے مذکورہ سوال کا تحریری جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا ہے کہ عورت چھپانے کی چیز ہے۔ کیونکہ جب عورت باہر آتی ہے تو شیطان اس کو گھورتا ہے ، لہذا عورت کو بغیر ضرورت کے گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہیے اور جب ضرورت کے مطابق گھر سے نکلے تو اپنے جسم کو اس طرح چھپائے کہ اس کے جسم کے اعضا ظاہر نہ ہوں یعنی ڈھیلا لباس پہن کر نہ نکلے، تنگ اور سخت لباس یا برقع پہن کر نکلنا اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہرگز جائز نہیں ہے اور سخت گناہ ہے، اسی طرح ایسا برقع پہن کر نکلنا بھی جائز نہیں ہے جس پر چمک دمک اور نیل بوٹے لگے ہوں ۔فتوی میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے برقع اور لباس فتنے کی وجہ ہوتے ہیں۔ دار العلوم سے جاری فتوے کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے تنظیم ابنائے دار العلوم دیوبند کے سکریٹری مفتی یا دائمی قاسمی نے کہا کہ مغربی تہذیب ہندوستانی تہذیب پر پوری طرح حاوی ہو چکی ہے، ہماری عورتیں پردوں سے نکل کر چھوٹے اور تنگ لباسوں میں آگئی ہیں ، اس جانب اب بطور خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
